کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: قسم اٹھانے کی جگہ اور وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1720
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ حَلَفَ عَلَى مِنْبَرِي هَذَا بِيَمِينٍ آثِمَةٍ تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" .
حافظ محمد فہد
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے میرے اس منبر پر جھوٹی قسم کھائی، اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم بنالیا۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات / حدیث: 1720
تخریج حدیث اخرجه ابوداود، الايمان والنذور، باب ماجاء في ترعظيم اليمين عند منبر النبي صلی اللہ علیہ وسلم (3246) وابن ماجة ، الاحكام، باب اليمين عند مقاطع الحقوق (2325) وصححه ابن الجارود (927) وابن حبان، والحاكم: 4 / 296 - ووافقه الذهبي۔
حدیث نمبر: 1721
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ الْمُرِّيَّ قَالَ: اخْتَصَمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَابْنُ مُطِيعٍ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فِي دَارٍ، فَقَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ زَيْدٌ: أَحْلِفُ لَهُ مَكَانِي. قَالَ مَرْوَانُ: لَا وَاللَّهِ إِلَّا عِنْدَ مَقَاطِعِ الْحُقُوقِ، فَجَعَلَ زَيْدٌ يَحْلِفُ أَنَّ حَقَّهُ لَحَقٌّ، وَيَأْبَى أَنْ يَحْلِفَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَجَعَلَ مَرْوَانُ يَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ مَالِكٌ: كَرِهَ زَيْدٌ صَبْرَ الْيَمِينِ.
حافظ محمد فہد
ابو غطفان المری نے بیان فرمایا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ابن مطیع نے اپنے ایک (مشترکہ) گھر کے جھگڑے کا مقدمہ مروان بن حکم کے سامنے رکھا، تو مروان نے اس بات پر فیصلہ دیا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ منبر پر قسم کھائیں۔ زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اپنی جگہ پر ہی قسم کھاؤں گا۔“ مروان نے کہا: ”نہیں اللہ کی قسم! وہیں قسم کھاؤ جہاں لوگوں کے فیصلے ہوتے ہیں (یعنی منبر پر)۔“ تو زید رضی اللہ عنہ یہ قسم کھاتے تھے کہ میں سچا ہوں لیکن منبر پر قسم کھانے سے انکار کرتے تھے اور مروان کو اس بات پر تعجب ہوتا تھا۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ زید رضی اللہ عنہ نے زبردستی قسم لینے کو ناپسند کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات / حدیث: 1721
تخریج حدیث اسناده صحیح اخرجه البيهقی: 10 / 177 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5930)۔
حدیث نمبر: 1722
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُؤَمَّلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ مِنَ الطَّائِفِ فِي جَارَتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، وَلَا شَاهِدَ عَلَيْهِمَا فَكَتَبَ إِلَيَّ أَنِ احْبِسْهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، ثُمَّ اقْرَأْ عَلَيْهِمَا: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا [آلِ عِمْرَانَ: 77] فَفَعَلْتُ فَاعْتَرَفَتْ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ.
حافظ محمد فہد
ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو طائف سے دو لونڈیوں کے متعلق لکھا جن میں سے ایک نے دوسری کو مارا تھا اور اس وقت کوئی گواہ بھی نہیں تھا، تو انہوں نے میری طرف جواب میں لکھ بھیجا کہ ان کو عصر کے بعد روک اور ان پر یہ آیت پڑھ کہ ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچتے ہیں۔“ (آل عمران : 77)۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں میں نے اسی طرح کیا تو ان میں سے ایک نے (جرم کا) اعتراف کر لیا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات / حدیث: 1722
تخریج حدیث اخرجه البخاري، التفسير ، باب ﴿ان الذين يشترون بعهد الله ....﴾ (4552)۔