کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: توبہ کر لینے کے بعد قاذف (تہمت لگانے والے) کی گواہی قبول کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1703
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قَالَ: زَعَمَ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنَّ شَهَادَةَ الْقَاذِفِ لَا تَجُوزُ، فَأَشْهَدُ لَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِأَبِي بَكْرَةَ: تُبْ تُقْبَلْ شَهَادَتُكَ أَوْ إِنْ تُبْتَ قُبِلَتْ شَهَادَتُكَ. وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يُحَدِّثُ بِهِ هَكَذَا مِرَارًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: شَكَكْتُ فِيهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَشْهَدُ لَأَخْبَرَنِي فُلَانٌ، ثُمَّ سَمَّى رَجُلًا فَذَهَبَ عَلَيَّ حِفْظُ اسْمِهِ، فَسَأَلْتُ قَالَ لِي عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ: هُوَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ. وَكَانَ سُفْيَانُ لَا يَشُكُّ أَنَّهُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَغَيْرُهُ يَرْوِيهِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ.
حافظ محمد فہد
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے سنا انہوں نے فرمایا کہ عراق والے یہ سمجھتے ہیں کہ تہمت لگانے والے کی شہادت جائز نہیں ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھے سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے بتایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تو توبہ کر لے تو تیری گواہی قبول کی جائے گی یا اگر تو توبہ کرتا ہے تو تیری گواہی قبول کی جائے گی۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا، میں نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کو کئی دفعہ اسی طرح بیان کرتے ہوئے سنا پھر میں نے ان کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے اس میں شک ہوا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھے فلاں نے بتایا، پھر آدمی کا نام لیا جسے میں یاد نہ رکھ سکا تو میں نے ان سے پوچھا تو مجھے عمر بن قیس نے بتایا کہ وہ سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں۔ اور سفیان رحمہ اللہ، سعید بن مسیب کے متعلق شک نہیں کرتے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اور ان کے علاوہ کوئی اور اسے ابن شہاب سے روایت کرتا ہے وہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اور وہ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1704
أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ فَلَمَّا قُمْتُ سَأَلْتُ، فَقَالَ لِي عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، وَحَضَرَ الْمَجْلِسَ مَعِي: هُوَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ لِسُفْيَانَ: أَشَكَكْتَ حِينَ أَخْبَرَكَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: لَا هُوَ كَمَا قَالَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ دَخَلَنِي الشَّكُّ.
حافظ محمد فہد
ہمیں سفیان بن عیینہ نے خبر دی انہوں نے کہا مجھے زہری نے خبر دی۔ پھر جب ہم (مجلس سے) کھڑے ہوئے تو مجھے عمر بن قیس نے کہا جو میرے ساتھ مجلس میں موجود تھے کہ وہ سعید بن مسیب ہیں۔ میں نے سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا: ”کیا سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے جب آپ کو خبر دی اسی وقت آپ کو شک لاحق ہوا؟“ فرمایا: ”نہیں وہ اسی طرح ہی ہے جس طرح انہوں نے فرمایا البتہ انہوں نے مجھے شک میں ڈال دیا۔“
حدیث نمبر: 1705
وَأَخْبَرَنِي مَنْ أَثِقُ بِهِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا جَلَدَ الثَّلَاثَةَ اسْتَتَابَهُمْ، فَرَجَعَ اثْنَانِ فَقَبِلَ شَهَادَتَهُمَا وَأَبَى أَبُو بَكْرَةَ أَنْ يَرْجِعَ فَرَدَّ شَهَادَتَهُ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ وَقَوْلَ الشَّافِعِيِّ مِنْ كِتَابِ الْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ.
حافظ محمد فہد
سعيد بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تین آدمیوں کو حدِ قذف لگائی تو ان سے توبہ کروائی، ان میں سے دو نے رجوع کر لیا تو ان دونوں کی شہادت کو قبول کیا، جبکہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے رجوع سے انکار کر دیا تو ان کی گواہی کو بھی رد کر دیا۔