کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: قسامہ (مقتول کے ورثاء کی قسموں کے ذریعے قاتل کے تعین) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1674
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمَا، فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ فَأَتَى يَهُودَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ أَنْتُمْ قَتَلْتُمُوهُ. قَالُوا: وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ، فَأَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ أَخُو الْمَقْتُولِ فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ يَتَكَلَّمُ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ: "كَبِّرْ كَبِّرْ" ، يُرِيدُ السِّنَّ. فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ" . فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ. فَكَتَبُوا: إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ: "تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟" . قَالُوا: لَا، قَالَ: "فَتَحْلِفُ يَهُودُ" . قَالُوا: لَا لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ، فَقَالَ سَهْلٌ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ.
حافظ محمد فہد
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اور ان کی قوم کے بڑے لوگوں نے خبر دی کہ عبد اللہ بن سہل بن ابی حثمہ اور محیصہ دونوں خیبر کی طرف مالی مشکلات کی وجہ سے گئے۔ جب وہ دونوں اپنی اپنی ضروریات کے لیے الگ ہوئے تو محیصہ کو خبر آئی کہ عبد اللہ بن سہل تو قتل کر دیے گئے ہیں اور انہیں ایک کنویں یا چشمے کے پاس پھینک دیا گیا ہے۔ محیصہ یہودیوں کے پاس آئے اور ان سے کہا اللہ کی قسم! تم ہی لوگوں نے انہیں قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا، اللہ کی قسم! ہم نے انہیں نہیں مارا۔ پھر محیصہ (خیبر سے لوٹ کر) اپنی قوم والوں کے پاس آئے اور انہیں یہ واقعہ سنایا۔ پھر وہ اور ان کے بڑے بھائی حویصہ اور مقتول کے بھائی عبد الرحمن بن سہل نبی ﷺ کے پاس آئے۔ محیصہ چونکہ خیبر میں اس وقت موجود تھے اس لیے انہوں نے گفتگو شروع کر دی تو رسول اللہ ﷺ نے محیصہ سے فرمایا: ”بڑے کو بات کرنے دو“ یعنی جو عمر میں بڑا ہے۔ پھر حویصہ نے بات کی بعد میں محیصہ نے بات کی، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یا تو وہ تمہارے ساتھی (عبداللہ) کی دیت دیں اور یا پھر انہیں جنگ کا نوٹس دیا جائے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس مقدمہ کے سلسلہ میں لکھا، تو انہوں نے جواب میں لکھا، اللہ کی قسم! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے حویصہ، محیصہ اور عبد الرحمن سے کہا: ”تم قسم کھاؤ تو تمہارے ساتھی کا خون ان پر ثابت ہو جائے گا۔“ انہوں نے کہا، ہم قسم نہیں کھاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر یہودی قسم کھائیں گے۔“ انہوں نے کہا، نہیں وہ تو مسلمان نہیں ہیں۔ آخر رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے عبد اللہ کی دیت میں سو اونٹنیاں انہیں دے دیں۔ یہاں تک کہ یہ اونٹنیاں ان کے گھر پہنچا دی گئیں۔ سہل نے کہا، ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات دے ماری تھی۔
حدیث نمبر: 1675
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا لِحَاجَتِهِمَا فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ، فَانْطَلَقَ هُوَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخُو الْمَقْتُولِ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ قَتْلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ قَاتِلِكُمْ أَوْ صَاحِبِكُمْ" ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَحْضُرْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ خَمْسِينَ يَمِينًا" . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ، فَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلَهُ مِنْ عِنْدِهِ. قَالَ بَشِيرُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ سَهْلٌ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي فَرِيضَةٌ مِنْ تِلْكَ الْفَرَائِضِ فِي مِرْبَدٍ لَهَا.
حافظ محمد فہد
سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود خیبر کی طرف گئے، پھر دونوں اپنی ضروریات کے لیے علیحدہ علیحدہ ہو گئے کہ عبد اللہ بن سہل قتل کر دیے گئے۔ پھر محیصہ، مقتول کا بھائی عبد الرحمن اور حویصہ بن مسعود رسول اللہ ﷺ کے پاس چلے آئے، انہوں نے آپ ﷺ سے عبد اللہ بن سہل کے قتل کا واقعہ بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم پچاس قسمیں کھاؤ اور اپنے مقتول یا اپنے ساتھی کی دیت کے مستحق ہو جاؤ گے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم تو اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھر یہود پچاس قسموں سے تم سے چھٹکارا پا لیں گے۔“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم کافر قوم کی قسموں کو کیسے قبول کریں۔“ اس نے خیال کیا کہ نبی ﷺ نے اس کی دیت اپنی طرف سے ادا کر دی۔ بشیر بن یسار نے کہا کہ سہل نے فرمایا، مجھے ان دیت کے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے تھان (اونٹوں کا باڑا) میں لات دے ماری۔
حدیث نمبر: 1676
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ: أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ، وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ: "تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ" ، قَالُوا: لَا. قَالَ: "فَتَحْلِفُ يَهُودُ" .
حافظ محمد فہد
سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ اور ان کی قوم کے بڑے لوگوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حویصہ، محیصہ اور عبد الرحمن سے کہا: ”تم قسمیں دو گے تو اپنے ساتھی کے خون کے مستحق ٹھہرو گے۔“ انہوں نے کہا: ”نہیں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر یہود قسم کھائیں گے۔“
حدیث نمبر: 1677
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَالثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِالْأَنْصَارِيَّيْنِ، فَلَمَّا لَمْ يَحْلِفُوا رَدَّ الْأَيْمَانَ عَلَى يَهُودَ.
حافظ محمد فہد
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابتدا انصاریوں سے کی جب انہوں نے قسمیں نہ اٹھائیں تو آپ ﷺ نے قسموں کو یہودیوں پر لوٹا دیا۔
حدیث نمبر: 1678
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے بشیر بن یسار کے واسطہ سے نبی کریم ﷺ سے سابقہ حدیث کی مثل مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1679
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ لَيْثٍ أَجْرَى فَرَسًا فَوَطِئَ عَلَى أُصْبُعِ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ فَنَزَى فِيهَا فَمَاتَ، فَقَالَ عُمَرُ لِلَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِمْ: تَحْلِفُونُ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا مَاتَ مِنْهَا؟ فَأَبَوْا أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ الْأَيْمَانِ، فَقَالَ لِلْآخَرِينَ: احْلِفُوا أَنْتُمْ فَأَبَوْا وَتَحَرَّجُوا. [ ص: 325 ] أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ وَالْقَسَامَةِ وَالْكُسُوفِ، وَالثَّانِيَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ الْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، وَهِيَ آخِرُ مَا فِيهِ.
حافظ محمد فہد
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بنی سعد بن لیث میں سے ایک آدمی نے گھوڑا دوڑایا اور جہینہ قبیلہ کے ایک آدمی کی ایک انگلی کچلی دی، اس میں خون جاری ہوا اور وہ آدمی فوت ہو گیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے انگلی کچلنے والے کی قوم سے کہا: ”تم پچاس قسمیں کھاتے ہو کہ وہ آدمی انگلی کچلنے سے نہیں مرا؟“ تو انہوں نے قسمیں کھانے سے انکار کر دیا۔ پھر دوسروں (میت کے ورثا) سے کہا: ”تم قسمیں کھاؤ“ تو انہوں نے بھی انکار کر دیا اور وہ قسمیں کھانے سے رک گئے۔