حدیث نمبر: 1658
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ فِي الْكِتَابِ الَّذِي كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أَوْعَى جَدْعًا مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ النَّفْسِ، وَفِي الْجَائِفَةِ مِثْلُهَا وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ، وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ، وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ، وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِمَّا هُنَالِكَ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ وَفِي الْمُوَضِحَةِ خَمْسٌ.
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن ابوبکر نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ وہ کتاب جسے رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے لکھا، اس میں ہے کہ: ”جب مکمل ناک کٹ جائے تو اس کی دیت سو اونٹ ہیں۔ اور سر کے زخم میں ایک جان کی دیت کا تیسرا حصہ ہے، پیٹ وغیرہ کے زخم میں بھی تیسرا حصہ، آنکھ کے زخم میں پچاس، ہاتھ میں پچاس، اور پاؤں میں بھی پچاس اونٹ ہیں۔ ہر انگلی میں دس اونٹ، دانت میں پانچ، اور ہڈی کو ننگا کر دینے والے زخم کی دیت بھی پانچ اونٹ ہے۔“
حدیث نمبر: 1659
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ فِي الْكِتَابِ الَّذِي كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: "وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ [ ص: 315 ] مِمَّا هُنَالِكَ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ" .
حافظ محمد فہد
محمد بن عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ وہ کتاب جو رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے لکھی، اس میں ہے کہ: ”ہر ایک انگلی میں (دیت) دس اونٹ ہیں۔“
حدیث نمبر: 1660
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ" .
حافظ محمد فہد
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انگلیوں میں دس دس (اونٹ) ہیں۔“
حدیث نمبر: 1661
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَضَى فِي الْإِبْهَامِ بِخَمْسَةَ عَشَرَ، وَفِي الَّتِي تَلِيهَا بِعَشَرَةٍ وَفِي الْوُسْطَى بِعَشَرَةٍ، وَفِي الَّتِي تَلِي الْخِنْصِرِ بِتِسْعٍ وَفِي الْخِنْصِرِ بِسِتٍّ.
حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انگوٹھے میں پندرہ، اور انگوٹھے سے ملی ہوئی (انگشت شہادت) میں دس، درمیان والی میں دس، چھنگلی انگلی سے ملی ہوئی میں نو، اور چھنگلی انگلی میں چھ (اونٹوں کی دیت) کا فیصلہ دیا۔
حدیث نمبر: 1662
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَضَى فِي الضِّرْسِ بِجَمَلٍ، وَفِي التَّرْقُوَةِ بِجَمَلٍ، وَفِي الضِّلَعِ بِجَمَلٍ.
حافظ محمد فہد
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ڈاڑھ میں ایک اونٹ، ہنسلی کی ہڈی میں ایک اونٹ، اور پسلی میں بھی ایک اونٹ (دیت) کا فیصلہ دیا۔
حدیث نمبر: 1663
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: أَنْبَأَ مَالِكٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ: أَنَّ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُزَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أَرْسَلَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ فِي الضِّرْسِ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِيهِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، فَرَدَّنِي مَرْوَانُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: أَفَتَجْعَلُ مُقَدَّمَ الْفَمِ مِثْلَ الْأَضْرَاسِ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْ أَنَّكَ لَا تَعْتَبِرُ ذَلِكَ إِلَّا بِالْأَصَابِعِ عَقْلُهَا سَوَاءٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَهَذَا مِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الشَّفَتَيْنِ عَقْلُهُمَا سَوَاءٌ. وَقَدْ جَاءَ فِي الشَّفَتَيْنِ سِوَى هَذَا آثَارٌ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْخَطَأِ، وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ، وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ، وَالْخَامِسَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالسَّادِسَ وَقَوْلَ الشَّافِعِيِّ مِنْ كِتَابِ الدِّيَاتِ وَالْقِصَاصِ.
حافظ محمد فہد
ابو غطفان بن طریف مزنی نے بیان کیا کہ مروان بن حکم نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ڈاڑھ کی دیت پوچھنے کے لیے بھیجا۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اس میں پانچ اونٹ ہیں۔“ (راوی کہتے ہیں) مجھے مروان نے دوبارہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور کہا: ”کیا آپ منہ کے اگلے حصے کو ڈاڑھوں کی طرح خیال کرتے ہیں؟“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ”اگرچہ تم اسے تسلیم نہ کرو مگر تمام انگلیوں کی دیت تو برابر ہے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دونوں ہونٹوں کی دیت بھی برابر ہے۔ اور ہونٹوں کی دیت میں اس کے علاوہ اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم سے آثار منقول ہیں۔“