حدیث نمبر: 1648
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لِحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِابْنَيْهَا وَزَوْجِهَا، وَالْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا.
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بنی لحیان کی ایک عورت کے بچے کے بارے میں، جو کسی عورت کے مارنے سے مردہ پیدا ہوا تھا، خون بہا کے طور پر ایک غلام یا لونڈی دینے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا کہ وہ عورت بچہ گرانے والی، جس کے بارے میں آپ ﷺ نے فیصلہ دیا تھا فوت ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ دیا کہ اس کی میراث اس کے بیٹوں اور خاوند کے لیے ہے اور دیت کی ادائیگی اس کے عصبہ پر ہے۔
حدیث نمبر: 1649
قَالَ الشَّافِعِيُّ فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: مَا الْخَبَرُ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْجَنِينِ عَلَى [ ص: 311 ] الْعَاقِلَةِ؟ قِيلَ: أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، قَالَ الرَّبِيعُ: وَهُوَ يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ محمد فہد
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا، اگر کوئی کہے کہ وہ بات کیسے ہے جس میں نبی ﷺ نے جنین میں عورت کو دیت کی ادائیگی کا فیصلہ دیا؟ تو کہا جائے گا، ہمیں ثقہ نے خبر دی۔ ربیع نے کہا: وہ یحییٰ بن حسان ہیں۔ انہوں نے لیث بن سعد سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابن مسیب سے، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔
حدیث نمبر: 1650
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ، فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ: كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ" .
حافظ محمد فہد
ابن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس بچے کے بارے میں جو اپنی ماں کے پیٹ میں قتل کر دیا جائے، ایک غلام یا باندی دینے کا فیصلہ دیا، جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا اس نے کہا: ”میں ایسی چیز کی دیت کیسے دوں، جس نے نہ پیا ہے، نہ کھایا ہے، نہ بات چیت کی ہے، اور نہ ہی ولادت کے وقت اس کی آواز سنائی دی ہے، کیا ایسی صورت میں تو دیت رائیگاں نہ ہو گی؟“ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ شخص کاہنوں کا بھائی لگتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1651
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُذَكِّرُ اللَّهَ امْرَأً سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ شَيْئًا؟ فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ جَارَتَيْنِ لِي فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ، فَأَلْقَتْ جَنِينًا مَيِّتًا فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنْ كِدْنَا أَنْ نَقْضِيَ فِي مِثْلِ هَذَا بِرَأْيِنَا.
حافظ محمد فہد
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”میں اس شخص کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے نبی ﷺ سے پیٹ کے بچے (جنین) کے متعلق کچھ سنا ہو؟“ تو حمل بن مالک بن نابغہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں اپنی دو بیویوں کے درمیان رہتا تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی چوب سے مارا، تو اس نے پیٹ کا بچہ مردہ جنا، اس میں رسول اللہ ﷺ نے ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ دیا۔“ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”قریب تھا کہ اس مسئلہ میں ہم اپنی رائے سے فیصلہ دے دیتے۔“
حدیث نمبر: 1652
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ طَاوُسٍ: أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُذَكِّرُ اللَّهَ امْرَأً سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ شَيْئًا، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ جَارَتَيْنِ لِي، يَعْنِي: بَيْنَ ضَرَّتَيْنِ، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَأَلْقَتْ [ ص: 312 ] جَنِينًا مَيِّتًا فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَوْ لَمْ نَسْمَعْ هَذَا لَقَضَيْنَا فِيهِ بِغَيْرِ هَذَا. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الدِّيَاتِ وَالْقِصَاصِ، وَالثَّالِثَ وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْخَطَأِ، وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ.
حافظ محمد فہد
طاؤس سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہے کوئی آدمی جس نے نبی ﷺ سے جنین کے بارے میں کچھ سنا ہو؟“ تو حمل بن مالک بن نابغہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے فرمایا: ”میں اپنی دو سوکنوں میں رہتا تھا کہ ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی چوب سے مارا تو اس نے پیٹ کا بچہ مردہ جنا، اس میں رسول اللہ ﷺ نے ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ دیا۔“ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر ہم یہ بات نہ سنتے تو اس مقدمہ میں کوئی اور فیصلہ دے دیتے۔“