کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: دیت کے اونٹوں کی قیمت یا قدرو منزلت متعین کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1646
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُ الْإِبِلَ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عَدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ وَيَقْسِمُهَا عَلَى أَثْمَانِ الْإِبِلِ، فَإِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا، وَإِذَا هَانَتْ نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهَا عَلَى أَهْلِ الْقُرَى الثَّمَنُ مَا كَانَ.
حافظ محمد فہد
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بستی والوں کے لیے اونٹوں کی قیمت چار سو دینار یا اس کے برابر چاندی (درہم) مقرر کرتے تھے جسے اونٹوں کی قیمت پر تقسیم کرتے تھے۔ جب اونٹ مہنگے ہو جاتے تو اس کی قیمت بھی بڑھا دیتے اور جب سستے ہو جاتے تو اس کی قیمت میں کمی کرتے۔ بستی والوں پر وہی قیمت لازم ہے جو اس وقت ہو۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة / حدیث: 1646
تخریج حدیث اسناده ضعيف لاعـضـالـه ، ولعنعنه ابن جريج ولضعف مسلم بن خالد، أخرجه البيهقي: 76/7ـ 77 وفي المعرفة السنن والآثار له (4891)۔
حدیث نمبر: 1647
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَكْحُولٍ وَعَطَاءٍ، قَالُوا: أَدْرَكْنَا النَّاسَ عَلَى أَنَّ دِيَةَ الْحُرِّ الْمُسْلِمِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَوَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تِلْكَ الدِّيَةَ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَلْفَ دِينَارٍ أَوِ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، وَدِيَةَ الْحُرَّةِ الْمُسْلِمَةِ إِذَا كَانَتْ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، فَإِذَا كَانَ الَّذِي أَصَابَهَا مِنَ الْأَعْرَابِ فَدِيَتُهَا خَمْسُونَ مِنَ الْإِبِلِ وَدِيَةُ الْأَعْرَابِيَّةِ إِذَا أَصَابَهَا الْأَعْرَابِيُّ خَمْسُونَ مِنَ الْإِبِلِ لَا يُكَلَّفُ الْأَعْرَابِيُّ الذَّهَبَ وَلَا الْوَرِقَ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْخَطَأِ.
حافظ محمد فہد
مکحول اور عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم نے لوگوں کو (یہ کہتے ہوئے) پایا کہ آزاد مسلمان کی دیت رسول اللہ ﷺ کے عہد میں سو اونٹ تھی۔ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ دیت بستی والوں پر ایک ہزار دینار یا بارہ ہزار درہم مقرر کر دی۔ اور بستی والوں میں سے آزاد مسلمان عورت کی دیت پانچ سو دینار یا چھ ہزار درہم، جب اس کو قتل کرنے والا اعرابی ہو تو اس کی دیت پچاس اونٹ اور اعرابی عورت کی دیت جب اسے اعرابی قتل کرے تو بھی پچاس اونٹ مقرر کی، اور فرمایا: ”اعرابی کو سونے چاندی کی ادائیگی کا مکلف نہ بنایا جائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة / حدیث: 1647
تخریج حدیث اسناده ضعیف لضعف مسلم بن خالد ولإرساله اخرجه البيهقي : 76/8 95 - وفي المعرفة السنن والآثار له (4919) وابن ابى شيبة (26726) وابوداود في المراسيل (255)۔