حدیث نمبر: 1641
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: كَانَ أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ الْيَمَانِ شَيْخًا كَبِيرًا، فَرُفِعَ فِي الْآطَامِ مَعَ النِّسَاءِ يَوْمَ أُحُدٍ فَخَرَجَ يَتَعَرَّضُ لِلشَّهَادَةِ، فَجَاءَ مِنْ نَاحِيَةِ الْمُشْرِكِينَ، فَابْتَدَرُوهُ الْمُسْلِمُونَ، فَتَوَشَّقُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ، وَحُذَيْفَةُ يَقُولُ: أَبِي أَبِي فَلَا يَسْمَعُونَ مِنْ شُغُلِ الْحَرْبِ حَتَّى قَتَلُوهُ، فَقَالَ [ ص: 307 ] حُذَيْفَةُ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ. فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدِيَتِهِ.
حافظ محمد فہد
عروہ رحمہ اللہ نے بیان فرمایا کہ ابو حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بوڑھے آدمی تھے۔ انہیں غزوہِ احد کے دن عورتوں کے ساتھ بلند جگہ میں ٹھہرایا گیا۔ وہ وہاں سے شہادت کے لیے نکلے۔ پھر مشرکین کی جانب سے (واپس) آئے تو مسلمانوں نے انہیں جلدی سے آ لیا اور اپنی تلواروں سے ان کو کاٹ ڈالا، جبکہ ان کے بیٹے حذیفہ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام سے فرما رہے تھے: ”یہ میرا باپ ہے، یہ میرا باپ ہے!۔“ جنگ کے شعلوں کی وجہ سے انہوں نے ان کی ایک نہ سنی یہاں تک کہ ان کو قتل کر دیا۔ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تمہارے گناہ معاف کرے اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔“ پھر نبی ﷺ نے ان کی دیت کی ادائیگی کا فیصلہ دیا۔
حدیث نمبر: 1642
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: لَجَأَ قَوْمٌ إِلَى جَعْشَمٍ فَلَمَّا غَشِيَهُمُ الْمُسْلِمُونَ اسْتَعْصَمُوا بِالسُّجُودِ، فَقَتَلُوا بَعْضَهُمْ، فَبَلَغَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "أَعْطُوهُمْ نِصْفَ الْعَقْلِ لِصَلَاتِهِمْ" . ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: "أَلَا إِنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ" . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ؟ قَالَ: "لَا تَتَرَاءَى نَارَاهُمَا" . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ.
حافظ محمد فہد
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے، فرمایا: جعشم قبیلہ کے پاس ایک قوم نے پناہ لی، پھر جب مسلمان ان پر غالب آ گئے تو انہوں نے سجدہ کے ذریعے پناہ چاہی، مسلمانوں نے ان کے بعض کو قتل کر دیا۔ جب یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کی نمازوں کی وجہ سے انہیں آدھی دیت دو۔“ پھر اس موقع پر ارشاد فرمایا: ”خبردار! میں ہر ایسے مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں کے پاس رہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کی کیا وجہ ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دونوں کی آگ (اکٹھی) نظر نہیں آنی چاہیے۔“