حدیث نمبر: 1630
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيرَتَيْنِ، إِنْ أَحَبُّوا لَهُمُ الْعَقْلُ، وَإِنْ أَحَبُّوا فَلَهُمُ الْقَوَدُ" .
حافظ محمد فہد
ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا کوئی عزیز قتل کر دیا جائے تو اس کے وارثوں کو دو باتوں کا اختیار ہے۔ اگر وہ پسند کریں تو ان کے لیے دیت ہے، اور اگر وہ پسند کریں تو ان کے لیے قصاص ہے۔“
حدیث نمبر: 1631
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ أَوْ مِثْلَ مَعْنَاهُ.
حافظ محمد فہد
ایک دوسری سند سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی ﷺ سے سابقہ حدیث کی ہم مثل یا اس کے ہم معنی بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1632
أَخْبَرَنِي أَبُو حَنِيفَةَ سِمَاكُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَامَ الْفَتْحِ: مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِنْ أَحَبَّ أَخَذَ الْعَقْلَ، وَإِنْ أَحَبَّ فَلَهُ الْقَوَدُ . فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي ذِئْبٍ: أَتَأْخُذُ بِهَذَا يَا أَبَا الْحَارِثِ؟ فَضَرَبَ صَدْرِي، وَصَاحَ عَلَيَّ صِيَاحًا كَثِيرًا وَنَالَ مِنِّي، وَقَالَ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ: تَأْخُذُ بِهِ. نَعَمْ، آخُذُ بِهِ وَذَلِكَ الْفَرْضُ عَلَيَّ وَعَلَى مَنْ سَمِعَهُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اخْتَارَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّاسِ فَهَدَاهُمْ بِهِ، عَلَى يَدَيْهِ وَاخْتَارَ لَهُمْ مَا اخْتَارَ لَهُ، عَلَى لِسَانِهِ فَعَلَى الْخَلْقِ أَنْ يَتَّبِعُوهُ طَائِعِينَ أَوْ دَاخِرِينَ، لَا مَخْرَجَ لِمُسْلِمٍ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: وَمَا سَكَتَ عَنِّي حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ يَسْكُتَ.
حافظ محمد فہد
ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتحِ مکہ والے سال فرمایا: ”جس کا کوئی عزیز قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں کا اختیار ہے، اگر چاہے تو دیت لے لے، اور اگر چاہے تو اس کے لیے قصاص ہے۔“ ابوحنیفہ نے کہا: میں نے ابن ابی ذئب سے کہا: اے ابوالحارث! کیا آپ اس حدیث کو لیں گے؟ (یعنی اس پر عمل کریں گے)۔ ابن ابی ذئب نے میرے سینے پر مارا اور مجھ پر خوب شور مچایا اور مجھے برا بھلا کہا اور فرمایا: میں تجھے رسول اللہ ﷺ کی حدیث سناتا ہوں اور تو کہتا ہے کہ کیا آپ اس کو اختیار کریں گے؟ ہاں! میں اسے لوں گا اور یہ بات مجھ پر بھی اور ہر اس حدیث کو سننے والے پر فرض ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو لوگوں میں سے چنا اور ان کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دی، اور لوگوں کے لیے بھی وہی دین پسند کیا جو آپ ﷺ کے لیے کیا۔ لہذا مخلوق پر واجب ہے کہ وہ آپ ﷺ کی ہر حالت میں اتباع کریں، کیونکہ ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ابوحنیفہ نے کہا: آپ مجھے یہ باتیں کہتے کہتے خاموش نہیں ہوئے حتیٰ کہ میں نے تمنا کی کہ آپ خاموش ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 1633
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، وَلَا يَحِلُّ لِمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضُدَ بِهَا شَجَرًا، فَإِنِ ارْتَخَصَ أَحَدٌ، فَقَالَ: أُحِلَّتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ اللَّهَ أَحَلَّهَا لِي وَلَمْ يُحِلَّهَا لِلنَّاسِ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، ثُمَّ أَنْتُمْ يَا خُزَاعَةُ قَدْ قَتَلْتُمْ هَذَا الْقَتِيلَ مِنْ هُذَيْلٍ، وَأَنَا وَاللَّهِ عَاقِلُهُ. مَنْ قَتَلَ بَعْدَهُ قَتِيلًا فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيرَتَيْنِ؛ إِنْ أَحَبُّوا قَتَلُوا، وَإِنْ أَحَبُّوا أَخَذُوا الْعَقْلَ .
حافظ محمد فہد
ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دیا ہے، اس کو لوگوں نے حرمت والا نہیں قرار دیا، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کے لیے جائز نہیں کہ اس میں کسی کا خون بہائے، نہ اس زمین کا کوئی درخت کاٹے اور اگر کوئی آدمی اپنے لیے رخصت نکالے تو فرمایا (اسے کہنا) یہ اللہ کے رسول ﷺ کے لیے حلال قرار دیا گیا، کیونکہ اللہ نے اس کو میرے لیے حلال قرار دیا ہے اور لوگوں کے لیے حلال قرار نہیں دیا، اور میرے لیے بھی دن کے تھوڑے حصے کے لیے حلال قرار دیا گیا، پھر یہ اسی طرح حرمت والا ہے جس طرح کل حرمت والا تھا۔ اے خزاعہ والو! یقیناً تم نے ہذیل قبیلے کے آدمی کو قتل کیا ہے، اور اللہ کی قسم! میں اس کی دیت دینے والا ہوں۔ اور جس نے بعد میں کسی کو قتل کیا تو اس کے ورثاء کو دو باتوں کا اختیار ہے، اگر چاہیں تو (قصاص میں) قتل کریں اور اگر چاہیں تو دیت لے لیں۔“
حدیث نمبر: 1634
أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ مُوسَى، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ مُقَاتِلٌ: أَخَذْتُ هَذَا التَّفْسِيرَ عَنْ نَفَرٍ حَفِظَ مُعَاذٌ مِنْهُمْ وَمُجَاهِدٌ وَالْحَسَنُ وَالضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ [الْبَقَرَةِ: 178] الْآيَةَ، قَالَ: كَانَ عَلَى أَهْلِ التَّوْرَاةِ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَنْ يُقَادَ بِهَا، وَلَا يُعْفَى عَنْهُ وَلَا تُقْبَلُ مِنْهُ الدِّيَةُ. وَفُرِضَ عَلَى أَهْلِ الْإِنْجِيلِ أَنْ يُعْفَى عَنْهُ وَلَا يُقْتَلُ وَرُخِّصَ لِأُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ شَاءَ قَتَلَ، وَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الدِّيَةَ وَإِنْ شَاءَ عَفَا فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ [الْبَقَرَةِ: 178] . يَقُولُ: الدِّيَةُ تَخْفِيفٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى إِذْ جَعَلَ الدِّيَةَ وَلَا يُقْتَلُ، ثُمَّ قَالَ: فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ [الْبَقَرَةِ: 178] . وَقَالَ فِي قَوْلِهِ: وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ [الْبَقَرَةِ: 179] يَنْتَهِي بِهَا بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ مَخَافَةَ أَنْ يُقْتَلَ.
حافظ محمد فہد
مقاتل نے بیان کیا کہ میں نے یہ تفسیر حفاظ کی ایک جماعت سے لی ہے جن میں معاذ، مجاہد، حسن اور ضحاک بن مزاحم شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ”جس کسی کو اپنے بھائی کی طرف سے معافی دے دی جائے۔“ (البقرة: 178) کے متعلق فرمایا کہ اہلِ تورات پر کسی کو ناحق قتل کرنے پر قصاص فرض تھا، نہ انہیں درگز کی اجازت تھی اور نہ وہ دیت لے سکتے تھے۔ اور اہلِ انجیل پر معاف کر دینا فرض تھا، وہ قصاصاً قتل نہیں کر سکتے تھے۔ اور امتِ محمدیہ (علی صاحبہا الصلاۃ والسلام) کے لیے رخصت دی گئی، اگر چاہیں تو قتل کریں، اگر چاہیں تو دیت لیں اور اگر چاہیں تو معاف کر دیں، اور یہی اللہ کے فرمان: ”یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے“ کا مفہوم ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ دیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تخفیف ہے، جب دیت لے لی تو قتل نہیں کیا جائے گا، پھر فرمایا: ”اور جو اس کے بعد سرکشی کرے اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ اور اللہ کے فرمان: ”تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔“ سے متعلق فرمایا کہ اس سے تم ایک دوسرے کو قتل کرنے سے، قصاصاً قتل ہو جانے کے خوف کی وجہ سے باز آجاتے ہو۔
حدیث نمبر: 1635
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِهَذِهِ الْأُمَّةِ: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ ص: 304 ] وَالأُنْثَى بِالأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ [الْبَقَرَةِ: 178] ، مِمَّا كُتِبَ عَلَى مَنْ كَانَ مِنْ قَبْلِكُمْ، فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ [الْبَقَرَةِ: 178] . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الدِّيَاتِ وَالْقِصَاصِ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ.
حافظ محمد فہد
مجاہد فرماتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل پر قصاص فرض تھا اور ان میں دیت نہیں تھی، تو اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے یہ حکم فرمایا کہ ”تم پر مقتولوں کا قصاص فرض کر دیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے، اور جس کسی کو اپنے بھائی کی طرف سے معافی دے دی گئی تو اسے بھلائی کے پیچھے لگنا ہے اور اچھے طریقے سے اسے دیت ادا کرنی ہے، یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔“ یہ اس کے مقابلے میں ہے جو تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، ”پھر جس نے اس کے بعد زیادتی کی اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ (البقرة: 178)