حدیث نمبر: 1624
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ أَحْسَبُهُ قَالَ: وَمُجَاهِدٍ، وَالْحَسَنِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ: "لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ" .
حافظ محمد فہد
مجاہد اور حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ والے دن فرمایا: ”مومن کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 1625
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ سِوَى الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، إِلَّا أَنْ يُعْطِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَبْدًا فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي [ ص: 300 ] الصَّحِيفَةِ، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: "الْعَقْلُ وَفَكَاكُ الْأَسِيرِ وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ" . وَفِي الْمَوْضِعِ الْآخَرِ: لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ.
حافظ محمد فہد
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا، میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا تمہارے پاس رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کوئی چیز قرآن کے علاوہ ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس نے دانے سے کونپل کو نکالا اور مخلوق کو پیدا کیا، ہمارے پاس کچھ نہیں۔ سوائے اس فہم کے جو اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اپنی کتاب میں دے دے اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے۔“ میں نے پوچھا اس صحیفہ میں کیا ہے؟ فرمایا: ”دیت کے احکام، قیدیوں کو چھڑوانے کے احکام اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے گا۔“ دوسری جگہ میں ہے کہ ”کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 1626
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا: هَلْ عِنْدَكُمْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ سِوَى الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِلَّا أَنْ يُؤْتَى عَبْدٌ فَهْمًا فِي الْقُرْآنِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ، قَالَ: "الْعَقْلُ وَفَكَاكُ الْأَسِيرِ، وَلَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ" .
حافظ محمد فہد
ابو جحیفہ رحمہ اللہ نے بیان فرمایا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا تمہارے پاس نبی ﷺ کی تعلیمات میں سے قرآن کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس نے دانے سے کونپل کو پھاڑا اور مخلوق کو پیدا کیا کچھ نہیں سوائے اس فہم کے جو کسی آدمی کو قرآن میں عطا کیا گیا اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے،“ میں نے پوچھا، صحیفہ میں کیا ہے؟ فرمایا: ”دیت کے مسائل، قیدیوں کو چھڑوانے کے احکامات اور یہ کہ کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔“
حدیث نمبر: 1627
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَالْحَسَنِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ الْفَتْحِ: "لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ" . قَالَ: هَذَا مُرْسَلٌ، قُلْتُ: نَعَمْ.
حافظ محمد فہد
عطاء، طاؤس، مجاہد اور حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے سال اپنے خطبہ میں فرمایا: ”مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔“ پوچھا یہ روایت مرسل ہے تو میں نے کہا ہاں۔
حدیث نمبر: 1628
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: أَنَّ ابْنَ شَاسٍ الْجُذَامِيَّ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَنْبَاطِ الشَّامِ، فَرُفِعَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ، فَكَلَّمَهُ الزُّبَيْرُ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَوْهُ عَنْ قَتْلِهِ، قَالَ: فَجَعَلَ دِيَتَهُ أَلْفَ دِينَارٍ.
حافظ محمد فہد
زہری سے روایت ہے کہ شاس جزامی کے بیٹے نے شام کے نبطیوں میں سے ایک آدمی کو قتل کر دیا، جب یہ معاملہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے سامنے لایا گیا تو انہوں نے قاتل کے قتل کا حکم دیا۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ سے زبیر رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ ﷺ کے دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم نے بات چیت کی اور انہیں اس قتل سے روک دیا، فرمایا: آپ نے اس کی دیت ایک ہزار دینار مقرر کی۔
حدیث نمبر: 1629
وَبِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: دِيَةُ كُلِّ مُعَاهِدٍ فِي عَهْدِهِ أَلْفُ دِينَارٍ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ الدِّيَاتِ وَالْقِصَاصِ.
حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے فرمایا: ”ہر معاہد کی دیت ان کے عہد میں ایک ہزار دینار تھی۔“