کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: ذمیوں (غیر مسلم شہریوں) سے عہد کی وفاء اور ان کے قصاص کا بیان۔
حدیث نمبر: 1622
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "أَنَا أَحَقُّ مَنْ وَفَّى بِذِمَّتِهِ" ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ.
حافظ محمد فہد
عبد الرحمن بن بیلمانی سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے ذمیوں میں سے ایک آدمی کو قتل کر دیا، جب یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اپنے ذمہ کو پورا کرنے کا سب سے زیادہ حقدار ہوں۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا اور وہ (قصاصاً) قتل کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة / حدیث: 1622
تخریج حدیث اسناده ضعيف جدا، فان ابراهيم بن محمد متروك وعبد الرحمن بن البيلماني ضعيف وهو مرسل: اخرجه البيهقي: 30/8، 31- وفي المعرفة السنن والآثار لــه (4814) - وعبد الرزاق (18514) وابن ابي شيبة (27460)۔
حدیث نمبر: 1623
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَسَدِيُّ، عَنْ أَبَانِ بْنِ تَغْلِبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي الْجَنُوبِ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ، قَالَ: فَقَامَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ فَجَاءَ أَخُوهُ، قَالَ: إِنِّي قَدْ عَفَوْتُ، فَقَالَ: لَعَلَّهُمْ هَدَّدُوكَ أَوْ فَرَّقُوكَ أَوْ فَزَّعُوكَ. قَالَ: لَا، وَلَكِنَّ قَتْلَهُ لَا يَرُدُّ عَلَيَّ أَخِي، وَعَوَّضَنِي فَرَضِيتُ، قَالَ: أَنْتَ أَعْلَمُ. مَنْ كَانَ لَهُ ذِمَّتُنَا فَدَمُهُ كَدَمِنَا وَدِيَتُهُ كَدِيَتِنَا. [ ص: 299 ] أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الدِّيَاتِ وَالْقِصَاصِ.
حافظ محمد فہد
ابو الجنوب اسدی نے بیان فرمایا کہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس مسلمانوں میں سے ایک آدمی لایا گیا جس نے ذمیوں میں سے ایک آدمی کو قتل کیا تھا۔ جب اس کے اوپر گواہی قائم ہو گئی تو آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا، تو مقتول کا بھائی آگیا اور اس نے کہا: ”میں نے اسے معاف کر دیا۔“ تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شاید انہوں نے تجھے ڈرایا دھمکایا ہے یا تجھے پریشان کیا ہے۔“ اس نے کہا: ”نہیں، لیکن اس کو قتل کر دینے سے میرا بھائی تو واپس نہیں آئے گا، انہوں نے مجھے دیت دے دی اور میں راضی ہو گیا۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تو بہتر جانتا ہے، ہاں جس کی ہم پر ذمہ داری ہے اس کا خون ہمارے خون کی مانند اور اس کی دیت ہماری دیت کی طرح ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة / حدیث: 1623
تخریج حدیث اسناده ضعيف لجهالة الحسن بن ميمون ولضعف أبى الجنوب اخرجه البيهقي: 34/8- وفي المعرفة السنن والآثار له (4817) . والدار قطنی: (3/ 147، 148)۔