کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
حدیث نمبر: 1620
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُؤْخَذُ بِذَنْبِ غَيْرِهِ، حَتَّى جَاءَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى أَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى [النَّجْمِ: 37-38] .
حافظ محمد فہد
عمرو بن اوس سے روایت ہے، فرمایا: پہلے ایک آدمی کو دوسرے کے گناہ کی وجہ سے پکڑ لیا جاتا تھا حتیٰ کہ ابراہیم علیہ السلام آئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور وفدار ابراہیم کے صحیفوں میں تھا کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ (النجم : 37، 38)
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة / حدیث: 1620
تخریج حدیث اسناده ضعيف لارساله اخرجه البيهقى 345/8 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5299)۔
حدیث نمبر: 1621
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى أَبِي الَّذِي بِظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: دَعْنِي أُعَالِجُ الَّذِي بِظَهْرِكَ فَإِنِّي طَبِيبٌ، قَالَ: "أَنْتَ رَفِيقٌ" ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ هَذَا مَعَكَ" ؟ فَقَالَ: ابْنِي. قَالَ: "اشْهَدْ بِهِ" ، قَالَ: "أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ" . أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ.
حافظ محمد فہد
ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: ”میں اپنے باپ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے ہاں تشریف لے گیا، تو میرے باپ نے رسول اللہ ﷺ کی کمر پر کوئی چیز دیکھی اور فرمایا: ”مجھے اجازت دیں میں آپ کی کمر پر موجود چیز کا علاج کروں کیونکہ میں طبیب ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اچھا ساتھی ہے۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے دریافت کیا: ”یہ تیرے ساتھ کون ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”میرا بیٹا ہے، میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! تیرے بیٹے کے قصور کا تجھ سے اور تیرے قصور کا تیرے بیٹے سے مواخذہ نہ ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة / حدیث: 1621
تخریج حدیث أخرجه ابوداود، الديات، باب لا يؤخذ الرجل بجريرة ابيه أو أخيه (4495) والنسائي، القسامة، هل يؤخذ احد بجريرة غيره (4836) وصححه ابن الجارود (770) والحاكم : 2/ 425 - وابن حبان۔