حدیث نمبر: 1615
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقٍّ سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ قَتْلِهِ" . قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ: "أَنْ يَذْبَحَهَا فَيَأْكُلَهَا وَلَا يَقْطَعَ رَأْسَهَا فَيَرْمِيَ بِهَا" .
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے چڑیا یا اس سے بھی ہلکی چیز کو ناحق قتل کیا تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کے قتل کے بارے میں پوچھیں گے۔“ پوچھا گیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کا حق کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے ذبح کرے پھر اسے کھائے اور اس کا سر نہ کاٹے کہ پھر اس سے نشان بازی کرے۔“
حدیث نمبر: 1616
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَرَّقَ الْمُرْتَدِّينَ أَوِ الزَّنَادِقَةَ قَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ وَلَقَتَلْتُهُمْ؛ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ" ، وَلَمْ أُحْرِقْهُمْ؛ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللَّهِ" .
حافظ محمد فہد
عکرمہ رحمہ اللہ نے بیان فرمایا کہ جب ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ خبر پہنچی کہ علی رضی اللہ عنہ نے مرتد اور بے دین لوگوں کو جلا دیا ہے، تو فرمایا: ”اگر میں (ان کی جگہ) ہوتا تو میں ان کو نہ جلواتا، البتہ میں ان کو قتل کر دیتا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ”جو اپنا دین (اسلام) بدل ڈالے اس کو قتل کر دو۔“ اور میں انہیں نہ جلاتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ”کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اللہ کے عذاب سے کسی کو عذاب دے۔“
حدیث نمبر: 1617
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فِي ابْنِ مُلْجَمٍ بَعْدَ مَا ضَرَبَهُ: أَطْعِمُوهُ وَاسْقُوهُ وَأَحْسِنُوا إِسَارَهُ، فَإِنْ عِشْتُ فَأَنَا وَلِيُّ دَمِي أَعْفُو إِنْ شِئْتُ، وَإِنْ شِئْتُ اسْتَقَدْتُ، وَإِنْ مِتُّ فَقَتَلْتُمُوهُ فَلَا تُمَثِّلُوا. [ ص: 296 ] أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ قِتَالِ الْمُشْرِكِينَ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْأُسَارَى وَالْغُلُولِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ.
حافظ محمد فہد
جعفر بن محمد نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابن ملجم سے متعلق فرمایا جب اس نے ان کو زخمی کیا: ”اس کو کھلاؤ پلاؤ اور اچھے طریقے سے قید کر کے رکھو، اگر میں زندہ رہا تو میں اپنے خون کا ولی ہوں، اگر چاہوں تو معاف کر دوں، اور اگر چاہوں تو انتقام لے لوں، اور اگر میں شہید ہو جاؤں تو تم اس کو قتل کر دینا، اس کا مثلہ نہ کرنا۔“