کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: ایک شخص کے بدلے پوری جماعت کو (قصاصاً) قتل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1611
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَتَلَ نَفَرًا خَمْسَةً أَوْ سَبْعَةً بِرَجُلٍ قَتَلُوهُ قَتْلَ غِيلَةٍ، وَقَالَ عُمَرُ: لَوْ تَمَالْأَ عَلَيْهِ أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلَهُمْ جَمِيعًا. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ.
حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پانچ یا سات آدمیوں کو ایک آدمی کے بدلے میں قتل کیا، جسے انہوں نے دھوکے سے مارا تھا، اور عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر صنعاء (یمن کا ایک مشہور شہر) کے تمام لوگ اس قتل میں شریک ہوتے تو میں تمام کو قصاص میں قتل کر دیتا۔“