حدیث نمبر: 1601
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، عَنِ الْمِقْدَادِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ، فَقَالَ: أَسْلَمْتُ للَّهِ، أَفَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَقْتُلْهُ" ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَطَعَ يَدِي، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَهَا، أَفَأَقْتُلُهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَقْتُلْهُ؛ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ" .
حافظ محمد فہد
مقداد رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے اگر میری کسی کافر سے ٹکر ہو، اور وہ مجھ سے قتال کرے پھر وہ میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ دے، پھر وہ مجھ سے بھاگ کر ایک درخت کی پناہ میں ہو کر کہے: ”میں اللہ پر ایمان لے آیا“، تو کیا اے اللہ کے رسول! میں اس کے اس اقرار کے بعد بھی اسے قتل کر دوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اسے قتل نہ کرو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے میرا ہاتھ کاٹا ہے، پھر اس نے یہ بات ہاتھ کاٹنے کے بعد کہی ہے تو کیا میں اسے قتل کروں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل نہ کرو، اسے قتل کرنے سے پہلے جو تمہارا مقام تھا اب اس کا ہے اور (اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو) تمہارا مقام وہ ہوگا جو اس کا اس کلمہ کے اقرار سے پہلے تھا۔“
حدیث نمبر: 1602
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ: أَنَّ رَجُلًا سَارَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَدْرِ مَا سَارَّهُ بِهِ حَتَّى جَهَرَ [ ص: 288 ] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يَسْتَأْمِرُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ. قَالَ: "أَلَيْسَ يُصَلِّي" ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَا صَلَاةَ لَهُ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللَّهُ عَنْهُمْ" .
حافظ محمد فہد
عبید اللہ بن عدی بن خیار سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کی، ہمیں نہیں پتہ چلا کہ اس نے آپ ﷺ سے کیا سرگوشی کی، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے بلند آواز میں فرمایا تو معلوم ہوا گویا وہ منافقین میں سے ایک آدمی کو قتل کرنے کا مشورہ طلب کر رہا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں؟“ اس آدمی نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اس کی گواہی اسے فائدہ نہیں دے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟“ اس آدمی نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اس کی نماز اس کے لیے مفید نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہی وہ لوگ ہیں جن کو قتل کرنے سے اللہ نے مجھے روکا ہے۔“
حدیث نمبر: 1603
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: شَهِدْتُ مِنْ نِفَاقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ثَلَاثَ مَجَالِسَ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ، وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الْأُسَارَى وَالْغُلُولِ.
حافظ محمد فہد
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: ”عبداللہ بن ابی کی تین منافقانہ مجلسوں میں میں موجود تھا۔“