کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: راہزنوں، ڈاکوؤں اور (اسلامی ریاست سے) جنگ کرنے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 1598
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، قَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا سَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنًا وَلَا زَادَ أَهْلَ اللِّقَاحِ عَلَى قَطْعِ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلِهِمْ.
حافظ محمد فہد
علی بن حسین رحمہ اللہ نے بیان فرمایا کہ نہیں اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے آنکھوں کو نہیں پھوڑا، اور دودھ دینے والی اونٹنیوں کو چرانے والوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 1599
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قُطَّاعِ الطَّرِيقِ: إِذَا قَتَلُوا وَأَخَذُوا الْمَالَ قُتِّلُوا وَصُلِّبُوا، وَإِذَا قَتَلُوا وَلَمْ يَأْخُذُوا الْمَالَ قُتِّلُوا وَلَمْ يُصَلَّبُوا، وَإِذَا أَخَذُوا الْمَالَ وَلَمْ يَقْتُلُوا قُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ. وَإِذَا أَخَافُوا السَّبِيلَ وَلَمْ يَأْخُذُوا مَالًا نُفُوا مِنَ الْأَرْضِ.
حافظ محمد فہد
صالح مولیٰ توامہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ڈاکوؤں کے متعلق مروی ہے کہ جب وہ قتل و غارت کریں اور مال بھی لوٹیں تو انہیں قتل بھی کیا جائے گا اور سولی بھی دی جائے گی، اور جب وہ قتل و غارت کریں اور مال نہ لوٹیں تو انہیں قتل کیا جائے گا انہیں سولی نہیں دی جائے گی، اور جب مال لوٹیں البتہ قتل و غارت نہ کریں تو ان کے مخالف سمت سے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں گے، اور جب وہ مسافروں کو خوفزدہ کریں ان سے مال نہ لوٹیں تو انہیں جلا وطن کر دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 1600
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ فِي الْقُرْآنِ أَوْ لَهُ كَيْفَ شَاءَ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: إِلَّا قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [الْمَائِدَةِ: 33] . فَلَيْسَ بِمُخَيَّرٍ فِيهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَمَا قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَغَيْرُهُ: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [الْمَائِدَةِ: 33] . فِي الْمُحَارِبِ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ أَقُولُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ قِتَالِ الْمُشْرِكِينَ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْقَطْعِ فِي السَّرِقَةِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ.
حافظ محمد فہد
عمرو بن دینار نے بیان فرمایا کہ ہر چیز قرآن میں ہے یا اس کے لیے ہے جیسے اس نے چاہا، ابن جریج نے کہا سوائے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”بے شک سزا ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے ہیں۔“ (المائدہ : 33) کہ اس میں اختیار نہیں دیا گیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی اس طرح فرمایا جس طرح کہ ابن جریج وغیرہ نے کہا ہے: ”بے شک سزا ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے ہیں۔“ (المائدہ : 33) میں کہتا ہوں کہ اس مسئلہ میں لڑائی کرنے والے کے متعلق ہے۔