کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: وہ چیزیں جن (کی چوری) پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہے
حدیث نمبر: 1595
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ فَإِذَا آوَاهُ الْجَرِينُ فَفِيهِ الْقَطْعُ" .
حافظ محمد فہد
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لٹکے ہوئے پھل (کی چوری) میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ البتہ جب وہ کھلیان (کھلی جگہ) میں (کاٹ کر رکھ لیں) تو اس میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحدود / حدیث: 1595
تخریج حدیث اخرجه ابوداود، اللقطعة، باب التعريف باللقطة (1710)، (1711)، (1390) - وابن ماجة، الحدود، باب من سرق من الحرز (2596) والنسائي قطع السارق الثمر يسرق بعد أن يؤويه الجرين (4961) وصححه ابن الجارود (827) - والحاكم : (381/4)۔
حدیث نمبر: 1596
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حِبَّانَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ" .
حافظ محمد فہد
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ”ہاتھ پھل اور کھجور کی (گری) میں نہیں کاٹا جائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحدود / حدیث: 1596
تخریج حدیث أخرجه ابوداود، الحدود، باب مالا قطع فيه (4388) والنسائي قطع السارق، باب مالا قطع فيه (4964)۔ وصححه ابن الجارود (826) وابن حبان۔
حدیث نمبر: 1597
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حِبَّانَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْقَطْعِ فِي السَّرِقَةِ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے بھی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحدود / حدیث: 1597
تخریج حدیث اخرجه ابن ماجة، الحدود، باب لا يقطع فى ثمر ولا كثر (2593) والترمذى، الحدود، باب ماجاء لا قطع في ثمر ولا كثر (1449) - وصححه ابن الجارود (826) وابن حبان۔