کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: چوری میں ہاتھ کاٹنے اور عاقلہ (قبیلے) پر تاوان کے دوگنا ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1592
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ: أَنَّ رَقِيقًا لِحَاطِبٍ سَرَقُوا نَاقَةً لِرَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَانْتَحَرُوهَا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَمَرَ كَثِيرَ بْنَ الصَّلْتِ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: إِنِّي أَرَاكَ تُجِيعُهُمْ، وَاللَّهِ لَأُغَرِّمَنَّكَ غُرْمًا يَشُقُّ عَلَيْكَ، ثُمَّ قَالَ لِلْمُزَنِيِّ: كَمْ ثَمَنُ نَاقَتِكَ؟ قَالَ: أَرْبَعُ مِائَةِ دِرْهَمٍ. قَالَ عُمَرُ: أَعْطِهِ ثَمَانَ مِائَةِ دِرْهَمٍ.
حافظ محمد فہد
یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ حاطب کے غلاموں نے مزینہ قبیلے کے ایک آدمی کی اونٹنی چوری کر کے نحر (ذبح) کر دی۔ یہ معاملہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے کثیر بن صلت کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ کاٹ دیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرا خیال میں تم انہیں لے کر آؤ، اللہ کی قسم! میں تجھ پر ایسا تاوان ڈالوں گا جو تیرے لیے باعثِ مشقت ہو۔“ پھر مزینہ قبیلہ کے آدمی سے پوچھا: ”تیری اونٹنی کی کیا قیمت ہے؟“ اس نے کہا: ”چار سو درہم۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے آٹھ سو درہم دے دو۔“
حدیث نمبر: 1593
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عَبْدًا لَهُ سَرَقَ وَهُوَ آبِقٌ، فَأَبَى سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ أَنْ يَقْطَعَهُ فَأَمَرَ بِهِ ابْنُ عُمَرَ فَقُطِعَتْ يَدُهُ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے بھاگے ہوئے غلام نے چوری کی تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ (حاکمِ مدینہ) نے اس کا ہاتھ کاٹنے سے انکار کر دیا۔ پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔