حدیث نمبر: 1583
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا" .
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ پر ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1584
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ سَارِقًا فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک چور کا ڈھال (کی چوری) میں ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔
حدیث نمبر: 1585
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ [ ص: 278 ] بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ سَارِقًا سَرَقَ أُتْرُجَّةً فِي عَهْدِ عُثْمَانَ، فَأَمَرَ بِهَا عُثْمَانُ فَقُوِّمَتْ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ مَنْ صَرْفِ اثْنَيْ عَشَرَ بِدِينَارٍ، فَقَطَعَ يَدَهُ.
حافظ محمد فہد
عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں ایک چور نے سنگترہ چوری کیا، عثمان رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تو اس کی قیمت تین درہم، بارہ درہم فی دینار کے حساب سے لگائی تو انہوں نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا اور یہ وہ سنگترہ ہے جس کو لوگ کھاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1586
قَالَ مَالِكٌ: وَهِيَ الْأُتْرُجَّةٌ الَّتِي يَأْكُلُهَا النَّاسُ. أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ: أَنَّهُ سَمِعَ قَتَادَةَ يَسْأَلُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْقَطْعِ، فَقَالَ أَنَسٌ: حَضَرْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَطَعَ سَارِقًا فِي شَيْءٍ مَا يَسُرُّنِي أَنَّهُ لِي بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ.
حافظ محمد فہد
حمید الطویل سے روایت ہے کہ انہوں نے قتادہ رحمہ اللہ سے سنا وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہاتھ کاٹنے کے متعلق پوچھ رہے تھے۔ تو انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے ایک چور کا ہاتھ ایسی چیز کے بدلے کاٹا جو میں تین درہم کے عوض بھی لینا پسند نہیں کرتا۔“
حدیث نمبر: 1587
أَخْبَرَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: الْقَطْعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا.
حافظ محمد فہد
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ پر کاٹا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1588
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مَكَّةَ شَرَّفَهَا اللَّهُ تَعَالَى وَمَعَهَا مَوْلَاتَانِ وَغُلَامٌ لِابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَبَعَثَتْ مَعَ مَوْلَاتَيْنِ بِبُرْدٍ مُرَجَّلٍ قَدْ خِيطَتْ عَلَيْهِ خِرْقَةٌ خَضْرَاءُ. قَالَتْ: فَأَخَذَ الْغُلَامُ الْبُرْدَ فَفَتَقَ عَنْهُ فَاسْتَخْرَجَهُ وَجَعَلَ مَكَانَهُ لِبْدًا أَوْ فَرْوَةً، وَخَاطَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَوْلَاتَانِ الْمَدِينَةَ دَفَعَتَا ذَلِكَ إِلَى أَهْلِهِ، فَلَمَّا فَتَقُوا عَنْهُ وَجَدُوا فِيهِ اللِّبْدَ وَلَمْ يَجِدُوا فِيهِ الْبُرْدَ، فَكَلَّمُوا الْمَوْلَاتَيْنِ فَكَلَّمَتَا عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَتْ يَدَهُ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: الْقَطْعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا.
حافظ محمد فہد
عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا مکہ کی طرف نکلیں تو ان کے ساتھ دو آزاد کردہ لونڈیاں اور عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کے بیٹے کا غلام تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان دونوں لونڈیوں کے ہاتھ ایک چادر بھیجی جس پر نقش و نگار تھے، اور اسے ایک سبز کپڑے میں لپیٹ کر سی دیا تھا۔ عمرہ نے کہا: (راستے میں) غلام نے سلائی ادھیڑ کر اس سے چادر نکال لی اور اس کی جگہ ایک تھیلا یا پوستین رکھ دی، اور اسے دوبارہ سی دیا۔ جب وہ دونوں لونڈیاں مدینہ پہنچیں تو انہوں نے وہ امانت گھر والوں کے حوالے کی۔ جب انہوں نے سلائی ادھیڑ کر دیکھا تو اس میں چادر کی بجائے پوستین پائی، انہوں نے لونڈیوں سے پوچھا، تو انہوں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو (غلام پر شک کی) بات کی۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا اور فرمایا: ”چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1589
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَقْطَعَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ، قَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَشَكَا إِلَيْهِ أَنَّ عَامِلَ الْيَمَنِ ظَلَمَهُ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَيَقُولُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَأَبِيكَ مَا لَيْلُكَ بِلَيْلِ سَارِقٍ. ثُمَّ إِنَّهُمُ افْتَقَدُوا حُلِيًّا لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، امْرَأَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَطُوفُ مَعَهُمْ، وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِمَنْ بَيَّتَ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ الصَّالِحِ، فَوَجَدُوا الْحُلِيَّ عِنْدَ صَائِغٍ، وَأَنَّ الْأَقْطَعَ جَاءَ بِهِ فَاعْتَرَفَ الْأَقْطَعُ أَوْ شَهِدَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُطِعَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاللَّهِ لَدُعَاؤُهُ عَلَى نَفْسِهِ أَشَدُّ عِنْدِي مِنْ سَرِقَتِهِ. أَخْرَجَ السِّتَّةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْقَطْعِ فِي السَّرِقَةِ.
حافظ محمد فہد
عبد الرحمن بن قاسم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ یمن کا رہنے والا ایک آدمی، جس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کٹا ہوا تھا، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور شکایت کی کہ یمن کے حاکم نے اس پر ظلم کیا ہے، وہ رات کو نماز پڑھتا تھا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے: ”تیرے باپ کی قسم! تیری رات چوروں کی رات نہیں ہے۔“ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے زیورات چوری ہو گئے، تو لوگوں کے ساتھ یہ آدمی بھی ڈھونڈتا اور کہتا: ”اے اللہ! اس آدمی کو تباہ کر جس نے ایسے نیک گھر والوں کے ہاں چوری کی۔“ پھر انہوں نے وہ ہار ایک سنار کے پاس پایا، (اس سنار نے بتایا کہ) یہ وہی کٹا ہوا آدمی لے کر آیا تھا۔ اس یمنی چور نے اعتراف کر لیا یا گواہی سے ثابت ہو گیا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا (بچا ہوا) بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا، اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے اس کی وہ مکارانہ بددعا جو وہ اپنے اوپر کرتا تھا، اس کی چوری سے زیادہ سخت معلوم ہوئی۔“