حدیث نمبر: 1569
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُبَادَةَ، يَعْنِي: ابْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "خُذُوا عَنِّي، خُذُوا عَنِّي، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا، الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ" .
حافظ محمد فہد
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے سیکھ لو، مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لیے راستہ مقرر کر دیا ہے۔ کنوارا کنواری سے زنا کرے تو ہر ایک کو سو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، اور شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت زنا کریں تو سو کوڑے اور رجم (سنگسار کرنا) ہے۔“
حدیث نمبر: 1570
وَقَدْ حَدَّثَنِي الثِّقَةُ: أَنَّ الْحَسَنَ كَانَ يُدْخِلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عُبَادَةَ حِطَّانَ الرَّقَاشِيَّ، وَلَا أَدْرِي أَدْخَلَهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ بَيْنَهُمَا فَزَلَّ مِنْ كِتَابِي حِينَ حَوَّلْتُهُ وَهُوَ فِي الْأَصْلِ أَوْ لَا؟ وَالْأَصْلُ يَوْمَ كَتَبْتُ هَذَا الْكِتَابِ غَائِبٌ عَنِّي.
حافظ محمد فہد
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے ثقہ راوی نے خبر دی کہ حسن اپنے اور عبادہ رضی اللہ عنہ کے درمیان حطان الرقاشی کا واسطہ بیان کرتے تھے۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ عبدالوہاب رحمہ اللہ نے ان دونوں کے درمیان یہ واسطہ بیان کیا۔ میں نے اپنی اصل کتاب دیکھی تو اس میں موجود نہ تھا۔ یا نہیں کیا جب سے میں نے یہ کتاب لکھی ہے اس کی اصل مجھ سے غائب ہے۔
حدیث نمبر: 1571
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: الرَّجْمُ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَا إِذَا أَحْصَنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِذَا قَامَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ الْحَبَلُ أَوْ الِاعْتِرَافُ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: ”رجم کرنا اللہ کی کتاب کے حکم کے مطابق اس شخص پر فرض ہے جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد مردوں یا عورتوں میں سے زنا کیا ہو، جب صحیح شرعی گواہوں سے ثابت ہو جائے، یا حمل ہو یا کوئی خود اقرار کر لے۔“
حدیث نمبر: 1572
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِيَّاكُمْ أَنْ تَهْلِكُوا عَنْ آيَةِ الرَّجْمِ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ: لَا نَجِدُ حَدَّيْنِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، لَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ: زَادَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللَّهِ لَكَتَبْتُهَا: (الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ فَارْجُمُوهُمَا أَلْبَتَّةَ) ، فَإِنَّا قَدْ قَرَأْنَاهَا.
حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم ڈرو اس بات سے کہ تم رجم کی آیت کو بھلا دو اور (زیادہ وقت گزرنے پر) کوئی کہنے والا کہے کہ ہم قرآن میں دو حدیں نہیں پاتے۔ رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا اور ہم نے بھی سنگسار کیا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی کتاب میں زیادتی کر دی ہے، تو میں یہ لکھوا دیتا کہ شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت (جب زنا کریں) تو انہیں رجم کر دو، بے شک ہم نے اس کو پڑھا ہے۔“
حدیث نمبر: 1573
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَزَادَ سُفْيَانُ وَشِبْلٌ، أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ أَنَّ ابْنَهُ زَنَا بِامْرَأَةِ رَجُلٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ فَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً، وَغَرَّبَهُ عَامًا وَأَمَرَ أُنَيْسًا أَنْ يَغْدُوَ عَلَى امْرَأَةِ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا" .
حافظ محمد فہد
ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے بیان کیا کہ اس کے بیٹے نے ایک آدمی کی بیوی سے زنا کیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان فیصلہ اللہ کی کتاب سے کروں گا۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلاوطن کر دیا۔ پھر آپ ﷺ نے انیس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ صبح اس عورت کے پاس جائیں، اگر وہ زنا کا اعتراف کرے تو اسے رجم کر دیں، جب اس عورت نے اعتراف کیا تو انیس رضی اللہ عنہ نے اس کو سنگسار کر دیا۔
حدیث نمبر: 1574
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ: أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ: أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَائْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: "تَكَلَّمْ" ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، فَزَنَا بِامْرَأَتِهِ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمَائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى: أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ ، وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا [ ص: 271 ] الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
حافظ محمد فہد
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ دو آدمیوں نے اپنا جھگڑا رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھا، ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے درمیان آپ اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجیے، اور دوسرے نے کہا (جو ان دونوں میں سے زیادہ سمجھدار تھا): ٹھیک ہے اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے مابین فیصلہ اللہ کی کتاب سے کیجیے اور مجھے اس معاملے میں کچھ بات کرنے کی اجازت دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو۔“ اس آدمی نے کہا: میرا بیٹا ان کے ہاں مزدور تھا، اس نے ان کی بیوی سے زنا کر لیا۔ مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا، تو میں نے اس کے بدلے انہیں سو بکریاں اور ایک لونڈی فدیہ میں دے دی۔ پھر میں نے اہلِ علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے اور رجم کی سزا اس کی بیوی کے لیے ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان فیصلہ اللہ کی کتاب سے کروں گا، تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تجھے واپس کی جائے گی۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلاوطن کر دیا، اور انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ دوسرے کی بیوی کے پاس جائیں، اگر اس نے اقرار کیا تو اسے رجم کر دیں، اس عورت نے اعتراف کر لیا اور رجم کر دی گئی۔
حدیث نمبر: 1575
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيَّيْنِ زَنَيَا.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے دو زنا کرنے والے یہودی جوڑے کو سنگسار کیا۔
حدیث نمبر: 1576
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَأَبِي الزِّنَادِ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ: أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: أَحَدُهُمَا أَحْبَنُ، وَقَالَ الْآخَرُ: مُقْعَدٌ كَانَ عِنْدَ جِوَارِ سَعْدٍ، فَأَصَابَ امْرَأَةً حَبَلٌ، فَرُمِيَتْ بِهِ، فَسُئِلَ، فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ قَالَ [ ص: 272 ] أَحَدُهُمَا: فَجُلِدَ بِإِثْكَالِ النَّخْلِ، وَقَالَ الْآخَرُ: بِأُثْكُولِ النَّخْلِ.
حافظ محمد فہد
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا ان میں سے ایک بڑے پیٹ والا تھا اور دوسرے نے کہا اپاہج (معذور) جو سعد رضی اللہ عنہ کے پڑوس میں رہتا تھا، اس نے ایک عورت سے زنا کیا اور وہ حاملہ ہوگئی۔ اس عورت پر اس سے زنا کی تہمت لگائی گئی، جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے اعتراف کر لیا، پھر نبی ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا۔ ان دونوں میں سے ایک نے کہا: اسے کھجور کی ایک ڈالی (جس میں سو ٹہنیاں تھیں) سے مارا گیا، اور دوسرے نے ”إثکال“ کی بجائے ”أثکول“ بیان کیا (یہ دونوں لفظ ہم معنی ہیں)۔
حدیث نمبر: 1577
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: الرَّجْمُ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَا إِذَا أَحْصَنَ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ النِّسَاءِ إِذَا قَامَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ الْحَبَلُ أَوْ الِاعْتِرَافُ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رجم اللہ کی کتاب میں اس کے لیے فرض ہے جس شادی شدہ نے مردوں، عورتوں میں سے زنا کیا، بشرطیکہ اس پر صحیح شرعی گواہی قائم ہو جائے یا عورت حاملہ ہو جائے یا اقرار کر لیں۔
حدیث نمبر: 1578
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَاهُ رَجُلٌ وَهُوَ بِالشَّامِ فَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَبَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ إِلَى امْرَأَتِهِ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَاهَا وَعِنْدَهَا نِسْوَةٌ حَوْلَهَا، فَذَكَرَ لَهَا الَّذِي قَالَ زَوْجُهَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَأَخْبَرَهَا أَنَّهَا لَا تُؤْخَذُ بِقَوْلِهِ، وَجَعَلَ يُلَقِّنُهَا أَشْبَاهَ ذَلِكَ لِتَنْزِعَ، فَأَبَتْ أَنْ تَنْزِعَ، وَثَبَتَتْ عَلَى الِاعْتِرَافِ، فَأَمَرَ [ ص: 273 ] بِهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرُجِمَتْ.
حافظ محمد فہد
ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام میں تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو پایا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کو اس کی بیوی کے پاس اس سے متعلق دریافت کرنے کے لیے بھیجا، جب وہ اس کے پاس آئے تو اس کے پاس اور بھی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، انہوں نے اسے وہ بات بتائی جو اس کے خاوند نے اس کے متعلق عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہی تھی۔ اور ساتھ ہی اسے یہ بھی بتایا کہ صرف اسی کی بات پر مواخذہ نہیں ہوگا۔ اور اسی طرح کی باتوں سے اسے تلقین کرنے لگے تاکہ وہ اس کی بات سے اختلاف کرے، لیکن اس نے اختلاف کرنے سے انکار کر دیا اور اقرار پر قائم رہی۔ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا۔
حدیث نمبر: 1579
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً، وَلَهَا ابْنَةٌ مِنْ غَيْرِهِ، وَلَهُ ابْنٌ مِنْ غَيْرِهَا، فَفَجَرَ الْغُلَامُ بِالْجَارِيَةِ، وَظَهَرَ بِهَا حَبَلٌ، فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَكَّةَ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُمَا فَاعْتَرَفَا، فَجَلَدَهُمَا عُمَرُ الْحَدَّ، وَحَرَصَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَهُمَا، فَأَبَى الْغُلَامُ. أَخْرَجَ الْخَمْسَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالسَّادِسَ وَالسَّابِعَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ، وَالثَّامِنَ مِنْ كِتَابِ الْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، وَالتَّاسِعَ مِنْ كِتَابِ الْجَنَائِزِ، وَالْعَاشِرَ وَالْحَادِيَ عَشَرَ مِنْ كِتَابِ الْقَطْعِ فِي السَّرِقَةِ، وَالثَّانِيَ عَشَرَ مِنْ كِتَابِ عِشْرَةِ النِّسَاءِ.
حافظ محمد فہد
عبید اللہ بن ابی یزید نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی جبکہ اس کی دوسرے خاوند سے بیٹی بھی تھی، اور اس آدمی کا دوسری بیوی سے بیٹا تھا، لڑکے نے لڑکی سے بدکاری کی اور اس کا حمل ظاہر ہو گیا، جب عمر رضی اللہ عنہ مکہ تشریف لائے تو ان کے سامنے یہ معاملہ رکھا گیا، انہوں نے ان دونوں سے سوال کیا تو انہوں نے اقرار کر لیا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو کوڑوں کی حد لگائی، اور انہیں ترغیب دلائی کہ آپس میں نکاح کر لو لیکن لڑکے نے انکار کر دیا۔