حدیث نمبر: 1565
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ مَعَ فُلَانٍ رِيحَ شَرَابٍ، فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرِبَ الطِّلَاءَ وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ، فَإِنْ كَانَ مُسْكِرًا جَلَدْتُهُ، [ ص: 266 ] فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ تَامًّا.
حافظ محمد فہد
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کی طرف نکلے اور فرمایا: ”میں نے فلاں شخص سے شراب کی بو پائی ہے اور وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے طلاء (گاڑھا شیرہ) پیا ہے، میں تحقیق کروں گا کہ اس نے کیا پیا ہے، اگر وہ نشہ آور ہوا تو میں اسے کوڑے لگاؤں گا۔“ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر مکمل حد کا نفاذ کیا۔
حدیث نمبر: 1566
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ فَصَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ، فَسَمِعَهُ السَّائِبُ يَقُولُ: إِنِّي وَجَدْتُ مَعَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأَصْحَابِهِ رِيحَ الشَّرَابِ، وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبُوا، فَإِنْ كَانَ مُسْكِرًا حَدَدْتُهُمْ. قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: فَأَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: أَنَّهُ حَضَرَهُ يَحُدُّهُمْ.
حافظ محمد فہد
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نمازِ جنازہ پڑھانے نکلے، تو سائب نے ان کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ”میں نے عبید اللہ اور اس کے ساتھیوں سے شراب کی بو پائی ہے، میں تحقیق کروں گا کہ انہوں نے کیا پیا ہے، اگر وہ نشہ آور ہوا تو میں ان پر حد نافذ کروں گا۔“ سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ وہ اس وقت وہاں موجود تھے جب ان پر حد لگائی گئی۔
حدیث نمبر: 1567
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَيُجْلَدُ فِي رِيحِ الشَّرَابِ؟ فَقَالَ عَطَاءٌ: إِنَّ الرِّيحَ لَتَكُونُ مِنَ الشَّرَابِ الَّذِي فِيهِ بَأْسٌ، فَإِذَا اجْتَمَعُوا جَمِيعًا عَلَى شَرَابٍ وَاحِدٍ فَسَكِرَ أَحَدُهُمْ جُلِدُوا جَمِيعًا الْحَدَّ تَامًّا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَوْلُ عَطَاءٍ مِثْلُ قَوْلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَا يُخَالِفُهُ.
حافظ محمد فہد
یحییٰ بن جریج نے کہا: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا شراب کی بو آنے پر حد لگائی جائے گی؟ تو عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بو اس شراب سے آتی ہے جس (کے پینے) میں حرج (نشہ) ہے، پس جب زیادہ لوگ ایک ہی قسم کی شراب پییں اور ان میں سے صرف ایک آدمی کو نشہ ہو جائے تو ان تمام پر مکمل کوڑوں کی حد نافذ کی جائے گی۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: عطاء کی بات بالکل عمر رضی اللہ عنہما کی بات کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 1568
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ [ ص: 267 ] أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَا أُوتَى بِأَحَدٍ شَرِبَ خَمْرًا وَلَا نَبِيذًا مُسْكِرًا إِلَّا جَلَدْتُهُ الْحَدَّ. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ.
حافظ محمد فہد
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو بھی شخص شراب پینے والا یا نشہ آور نبیذ پینے والا میرے پاس لایا جائے گا، میں اس پر کوڑوں کی حد ضرور لگاؤں گا۔“