کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: پکا ہوا مشروب جس کے دو تہائی حصے اڑ جائیں (اس کا حکم)
حدیث نمبر: 1546
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَوْفِ بْنِ سَلَامَةَ أَخْبَرَاهُ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ قَدِمَ الشَّامَ، فَشَكَا إِلَيْهِ أَهْلُ الشَّامِ وَبَالَ الْأَرْضِ وَثِقَلَهَا، وَقَالُوا: لَا يُصْلِحُنَا إِلَّا هَذَا الشَّرَابُ. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: اشْرَبُوا الْعَسَلَ. فَقَالُوا: لَا يُصْلِحُنَا الْعَسَلُ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ: هَلْ لَكَ أَنْ نَجْعَلَ مِنْ هَذَا الشَّرَابِ شَيْئًا لَا يُسْكِرُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَطَبَخُوهُ حَتَّى ذَهَبَ مِنْهُ الثُّلُثَانِ، وَبَقِيَ الثُّلُثُ، فَأَتَوْا بِهِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَدْخَلَ عُمَرُ فِيهِ إِصْبَعَهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ، فَتَبِعَهَا يَتَمَطَّطُ فَقَالَ: هَذَا الطِّلَاءُ هَذَا مِثْلُ طِلَاءِ الْإِبِلِ. فَأَمَرَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَشْرَبُوهُ. فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: أَحْلَلْتَهَا وَاللَّهِ. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَلَّا وَاللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ شَيْئًا حَرَّمْتَهُ عَلَيْهِمْ، وَلَا أُحَرِّمُ عَلَيْهِمْ شَيْئًا أَحْلَلْتَهُ لَهُمْ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ.
حافظ محمد فہد
محمود بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام آئے تو شام والوں نے ان سے وبا اور آب و ہوا کی خرابی کی شکایت کی اور کہا: ہمیں شراب کے علاوہ اور کوئی چیز تندرست نہیں رکھ سکتی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”تم شہد پی لیا کرو۔“ انہوں نے کہا: ہم شہد سے صحت یاب نہیں ہوتے ہیں۔ ایک آدمی نے انہی میں سے کہا: اگر ہم شراب کو اس حالت پر لے جائیں کہ اس کا نشہ نہ رہے تو آپ کیا کہتے ہیں؟ فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ پھر انہوں نے اسے آگ پر پکایا حتیٰ کہ اس کے دو ثلث (دو تہائی) خشک ہو گئے اور تیسرا حصہ رہ گیا، تو وہ اسے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لائے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں اپنی انگلی ڈالی پھر اپنا ہاتھ اوپر اٹھایا تو وہ تار کی طرح چپکنے لگا، انہوں نے فرمایا: ”یہ طلاء (گاڑھا شیرہ) ہے، یہ اونٹوں کے طلاء کی طرح ہے۔“ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس کے پینے کا حکم دیا، تو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے اس کو حلال کر دیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا: ”ہرگز ایسا نہیں! اللہ کی قسم! اے اللہ! جو چیز تو نے حرام کر دی ہے میں اسے ان کے لیے حلال نہیں کرتا، اور جو تو نے ان کے لیے حلال کر دیا ہے وہ میں ان پر حرام نہیں کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الأشربة والأنبذة والأوعية / حدیث: 1546
تخریج حدیث اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 8 /300 ـ وفي المعرفة السنن والآثار له (5213) - ومالك في الموطا، الأشربه، باب جامع تحريم الخمر۔