حدیث نمبر: 1532
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعْدٍ الْجَارِيِّ أَوْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا نَصَارَى الْعَرَبِ أَهْلَ كِتَابٍ، وَمَا تَحِلُّ لَنَا ذَبَائِحُهُمْ، وَمَا أَنَا بِتَارِكِهِمْ حَتَّى يُسْلِمُوا أَوْ أَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ.
حافظ محمد فہد
سعد جاری یا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن سعد سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عرب کے عیسائی اہل کتاب میں سے نہیں ہیں، اور ان کے ذبح کردہ جانور بھی ہمارے لیے حلال نہیں ہیں، اور میں انہیں نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کر لیں یا میں ان کی گردنیں مار دوں۔“
حدیث نمبر: 1533
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعْدِ الْفَلَحَةِ مَوْلَى عُمَرَ، أَوِ ابْنِ سَعْدِ الْفَلَحَةِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا نَصَارَى الْعَرَبِ بِأَهْلِ كِتَابٍ، وَمَا تَحِلُّ لَنَا ذَبَائِحُهُمْ، وَمَا أَنَا بِتَارِكِهُمْ حَتَّى يُسْلِمُوا أَوْ أَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ.
حافظ محمد فہد
سعد الفلحہ مولیٰ عمر یا ابن سعد الفلح سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عرب کے عیسائی اہل کتاب میں سے نہیں ہیں، ہمارے لیے ان کے ذبح کردہ جانور بھی حلال نہیں ہیں اور میں ان کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ وہ اسلام نہ لے آئیں یا میں ان سے قتال کروں گا۔“
حدیث نمبر: 1534
أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ قَالَ: لَا تَأْكُلُوا ذَبَائِحَ نَصَارَى بَنِي تَغْلِبَ؛ فَإِنَّهُمْ لَمْ يَتَمَسَّكُوا مِنْ دِينِهِمْ إِلَّا بِشُرْبِ الْخَمْرِ.
حافظ محمد فہد
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”بنی تغلب کے عیسائیوں کے ذبح کردہ جانور نہ کھاؤ، کیونکہ انہوں نے شراب پینے کے سوا اپنے دین کی کسی بات کو نہیں پکڑا ہے۔“ (یعنی اس کے علاوہ باقی سب پر عمل چھوڑ دیا ہے۔)
حدیث نمبر: 1535
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ سُفْيَانُ أَوْ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ أَوْ هُمَا، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَا تَأْكُلُوا ذَبَائِحَ نَصَارَى الْعَرَبِ بَنِي تَغْلِبَ؛ فَإِنَّهُمْ لَمْ يَتَمَسَّكُوا مِنْ نَصْرَانِيَّتِهِمْ أَوْ مِنْ دِينِهِمْ إِلَّا بِشُرْبِ الْخَمْرِ. الشَّكُّ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بنی تغلب کے عرب عیسائیوں کے ذبح کردہ جانور نہ کھاؤ، کیونکہ انہوں نے عیسائیت یا اپنے دین میں سے شراب پینے کے علاوہ اور کسی چیز پر بھی عمل نہیں کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 1536
قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالَّذِي يُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي إِحْلَالِ ذَبَائِحِهِمْ إِنَّمَا هُوَ مِنْ حَدِيثِ عِكْرِمَةَ، أَخْبَرَنِيهِ ابْنُ الدَّرَاوَرْدِيِّ وَابْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ ثَوْرٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَبْحِ نَصَارَى الْعَرَبِ، فَقَالَ قَوْلًا [ ص: 249 ] حَكَى هُوَ إِحْلَالُهَا، وَتَلَا: وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [الْمَائِدَةِ: 51] وَلَكِنَّ صَاحِبَنَا سَكَتَ عَنِ اسْمِ عِكْرِمَةَ، وَثَوْرٌ لَمْ يَلْقَ ابْنَ عَبَّاسٍ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْجِزْيَةِ، وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ، وَالرَّابِعَ وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ السَّيْرِ عَلَى سِيَرِ الْوَاقِدِيِّ.
حافظ محمد فہد
عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرب کے عیسائیوں کے ذبح کردہ جانوروں کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے ان کے حلال ہونے کے بارے میں بات کہی اور یہ آیت تلاوت کی: ”جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے وہ انہیں میں سے ہے۔“ (المائدہ : 51) لیکن ہمارے استاد نے عکرمہ کا واسطہ نہیں بیان کیا، اور ثور رحمہ اللہ کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہی ثابت نہیں۔