کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: لگڑ بھگے (کے گوشت) کے متعلق بیان
حدیث نمبر: 1508
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الضَّبُعِ أَصَيْدٌ [ ص: 234 ] هِيَ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَقُلْتُ: أَتُؤْكَلُ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَقُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: نَعَمْ.
حافظ محمد فہد
ابن ابی عمار سے روایت ہے کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا بجو کا شکار جائز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔ پھر میں نے پوچھا: کیا اس کا کھانا درست ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پھر پوچھا: آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الأطعمة والصيد والذبائح / حدیث: 1508
تخریج حدیث اخرجه الترمذى الحج، باب ما جاء في الصبح يصيبها المحرم (851) . وقال ”حسن صحيح“ والنسائي، مناسك الحج، باب مالا يقتله (2839) وصححه ابن خزيمة (2645) وابن الجارود (438) - والحاكم: 1/ 452 - وابن حبان۔
حدیث نمبر: 1509
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الضَّبُعِ أَصَيْدٌ هِيَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: أَتُؤْكَلُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَعَمْ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ.
حافظ محمد فہد
ابن ابی عمار سے روایت ہے کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا بجو کا شکار جائز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پھر پوچھا: کیا اس کا کھانا درست ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پھر پوچھا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الأطعمة والصيد والذبائح / حدیث: 1509
تخریج حدیث انظر الحديث السابق برقم : (1508)۔