کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: چراگاہ کو کسی مخصوص مقصد کے لیے محفوظ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1504
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا حِمَى إِلَّا للَّهِ وَرَسُولِهِ" .
حافظ محمد فہد
صعب بن جثادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی چراگاہ نہیں مگر وہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الشفعة والصلح وإحياء الموات / حدیث: 1504
تخریج حدیث اخرجه البخاري، المساقاة، باب لا حمى الا الله ورسوله (2370)۔
حدیث نمبر: 1505
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، اسْتَعْمَلَ مَوْلًى لَهُ يُقَالُ لَهُ: هُنَيٌّ عَلَى الْحِمَى، فَقَالَ لَهُ: يَا هُنَيُّ، ضُمَّ جَنَاحَكَ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ مُجَابَةٌ. وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغُنَيْمَةِ. وَإِيَّايَ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ وَنَعَمَ ابْنِ عَوْفٍ، فَإِنَّهُمَا إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَانِ إِلَى نَخْلٍ وَزَرْعٍ، وَإِنَّ رَبَّ الْغُنَيْمَةِ يَأْتِي بِعِيَالِهِ فَيَقُولُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَفَتَارِكُهُمْ أَنَا؟ لَا أَبَا لَكَ، فَالْمَاءُ وَالْكَلَأُ أَهْوَنُ مِنَ الدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ، [ ص: 231 ] وَايْمُ اللَّهِ لَعَلَّ ذَلِكَ أَنَّهُمْ لَيَرَوْنُ أَنِّي قَدْ ظَلَمْتُهُمْ إِنَّهَا لَبِلَادُهَا قَاتَلُوا عَلَيْهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِي الْإِسْلَامِ. وَلَوْلَا الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى مَا حَمَيْتُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنْ بِلَادِهِمْ شَيْئًا. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَعِمَارَةِ الْأَرْضِينَ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
زید بن اسلم نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہنی نامی اپنے ایک غلام کو (سرکاری) چراگاہ کا نگران مقرر کیا، تو اس سے مخاطب ہو کر کہا: ”اے ہنی! اپنے ہاتھوں کو روکے رکھنا (یعنی کسی پر ظلم نہ کرنا)، مظلوم کی بددعا سے بچنا، کیونکہ مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے۔ گنے چنے اونٹوں اور گنی چنی بکریوں والوں کو چراگاہ میں داخل ہونے کی اجازت دینا، اور ابن عفان (مراد عثمان رضی اللہ عنہ) اور ابن عوف (عبدالرحمن رضی اللہ عنہ) جیسے امیر صحابہ ثانی کے مویشیوں کے بارے میں احتیاط کرنا (یعنی ان کے دولت مند ہونے کی وجہ سے غرباء پر مقدم نہ کرنا) کیونکہ اگر ان کے جانور ہلاک ہو جائیں تو یہ کھجور کے باغات اور کھیتیوں سے اپنی معاش حاصل کر لیں گے اور مویشیوں کے ہلاک ہونے کی صورت میں گنی چنی بکریوں والا اپنے بچوں کی فریاد لے کر آئے گا اور کہے گا: اے امیر المومنین! اے امیر المومنین! تو کیا میں انہیں چھوڑ دوں، تیرا باپ نہ ہو (ان کو پالنا)۔ ان کے لیے پانی اور چارے کا بندوبست کرنا درہم و دینار سے زیادہ آسان ہے۔ اللہ کی قسم! شاید یہ لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ میں نے ان پر ظلم کیا ہے کیونکہ یہ ان کی زمینیں ہیں، انہوں نے دور جاہلیت میں اس کے لیے لڑائیاں لڑیں، اور اسلام لانے کے بعد بھی یہ ان کے پاس ہیں۔ اور اگر وہ مال (مراد گھوڑے ہیں) نہ ہوتا جس پر میں لوگوں کو جہاد میں سوار کرتا ہوں تو میں مسلمانوں کی زمینوں میں سے تھوڑی سی زمین بھی چراگاہ نہ بناتا۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الشفعة والصلح وإحياء الموات / حدیث: 1505
تخریج حدیث اخرجه البخاري، الجهاد والسير، باب اذا سلم قوم فى دار الحرب ولهم مال وأرضون فهى لهم (3059)۔