حدیث نمبر: 1497
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقِ ظَالِمٍ حَقٌّ" .
حافظ محمد فہد
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بنجر (غیر آباد) زمین کو آباد کیا تو وہ اسی کی ہے، اور ظالم رگ کا کوئی حق نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 1498
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے بنجر (غیر آباد) زمین کو آباد کیا تو وہ اسی کی ہے۔“
حدیث نمبر: 1499
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَحْيَا مَوَاتًا مِنَ الْأَرْضِ فَهُوَ لَهُ، وَعَادِيُّ الْأَرْضِ للَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ مِنِّي" .
حافظ محمد فہد
ابن طاؤوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غیر آباد زمینوں کو آباد کیا تو وہ اسی کی ہیں، اور پرانی زمینیں اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت ہیں، پھر یہ میرے طرف سے تمہارے لیے ہیں۔“
حدیث نمبر: 1500
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَحْيَا مَوَاتًا فَهُوَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقِ ظَالِمٍ حَقٌّ" .
حافظ محمد فہد
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غیر آباد زمین کو زرخیز بنایا وہ اسی کے لیے ہے، اور ظالم رگ کا (اس میں) کوئی حق نہیں۔“
حدیث نمبر: 1501
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الْأَزْرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ: أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ قَامَ بِفِنَاءِ دَارِهِ ثُمَّ ضَرَبَ بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: سَنَامُ الْأَرْضِ إِنَّ لَهَا سَنَامًا، زَعَمَ ابْنُ فَرْقَدٍ الْأَسْلَمِيُّ أَنِّي لَا أَعْرِفُ حَقِّي مِنْ حَقِّهِ لِي بَيَاضُ الْمَرْوَةِ وَلَهُ سَوَادُهَا، وَلِي مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: لَيْسَ لِأَحَدٍ إِلَّا مَا أَحَاطَتْ عَلَيْهِ جُدْرَانُهُ، إِنَّ إِحْيَاءَ الْمَوَاتِ مَا يَكُونُ زَرْعًا أَوْ حَفْرًا أَوْ يُحَاطُ بِالْجُدُرَاتِ وَهُوَ مِثْلُ إِبْطَالِهِ التَّحْجِيرَ، يَعْنِي مَا يَعْمُرُ بِهِ مِثْلَ مَا يُحَجِّرُ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَعِمَارَةِ الْأَرْضِينَ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
علقمہ بن نضلہ سے روایت ہے کہ ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کے صحن میں کھڑے ہو کر اپنا پاؤں مارا اور فرمایا: ”بیچ والی زمین، بے شک زمین کے لیے بھی کہاں ہے۔“ تو ابن فرقد اسلمی نے یہ سمجھا کہ میں نے ان کے حق سے اپنا حق نہیں پہچانا لہذا میرے لیے مروہ کی سفیدی (یعنی غیر آباد زمین) اور ان کے لیے اس کی سیاہی (یعنی آباد زمین) ہے۔ جب یہ بات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”مینڈوں کے علاوہ کی جگہ کسی کے لیے نہیں ہے۔ بے شک بنجر زمین کو زندہ کرنا (آباد کرنا) جو کھیتی کی صورت میں ہو، یا کنواں کھودنے کی صورت میں یا مینڈوں کے اٹھانے کی صورت میں، وہ تصرف کے باطل کرنے کی طرح ہے، یعنی اس کے ساتھ وہی معاملہ ہوگا جو تصرف سے ممانعت والی چیز کا ہوتا ہے۔“