حدیث نمبر: 1493
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا ضَرَرَ وَلَا إِضْرَارَ" .
حافظ محمد فہد
یحییٰ المازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ ابتداء نقصان پہنچانا ہے اور نہ ہی نقصان کے بدلے نقصان دینا ہے۔“
حدیث نمبر: 1494
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ [ ص: 225 ] رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزْ خَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ" ، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ؟ وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ.
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ روکے۔“ اعرج نے کہا پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے، ”یہ کیا ہے کہ میں تمہیں اس سے اعراض کرنے والا پاتا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں تمہارے سامنے برابر اعلان کرتا رہوں گا۔“
حدیث نمبر: 1495
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ خَلِيفَةَ سَاقَ خَلِيجًا لَهُ مِنَ الْعَرِيضِ، فَأَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بِهِ فِي أَرْضٍ لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ. فَأَبَى مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَكَلَّمَ فِيهِ الضَّحَّاكُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. فَدَعَا مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَهُ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: لَا. فَقَالَ عُمَرُ: لِمَ تَمْنَعُ أَخَاكَ مَا يَنْفَعُهُ وَهُوَ لَكَ أَنْفَعُ تَشْرَبُ بِهِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَلَا يَضُرُّكَ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: لَا. فَقَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ لَيَمُرَّنَّ بِهِ وَلَوْ عَلَى بَطْنِكَ.
حافظ محمد فہد
یحیی مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن خلیفہ نے عریض مقام سے چھوٹی نالی اپنی فصل تک کے لیے بنائی تو انہوں نے اسے محمد بن مسلمہ کی زمین سے گزارنا چاہا تو محمد بن مسلمہ نے انکار کر دیا، ضحاک نے اس بارے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بات کی تو انہوں نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اسے راستہ دے دیں، محمد بن مسلمہ نے کہا نہیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”جو چیز تیرے بھائی کے لیے نفع مند ہے تو اس سے اسے کیوں روکتا ہے حالانکہ وہ تیرے لیے بھی نفع مند ہے کہ تیری ساری زمین کو پانی بغیر مشقت کے مل جائے گا،“ پھر بھی محمد بن مسلمہ نے انکار کر دیا تو عمر نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ نالی ضرور گزرے گی اگر چہ تیرے اوپر سے ہی کیوں نہ گزرے۔“
حدیث نمبر: 1496
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ مَنَعَ فَضْلَ الْمَاءِ لِيَمْنَعَ بِهِ الْكَلَأَ مَنَعَهُ اللَّهُ تَعَالَى فَضْلَ رَحْمَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" . أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَعِمَارَةِ الْأَرْضِينَ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بچے ہوئے پانی کو اس لیے روکا کہ اس سے گھاس روکے تو اس سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنی رحمت کو روک لیں گے۔“