حدیث نمبر: 1486
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدٍ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: "اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِهَا" .
حافظ محمد فہد
زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے لقطہ (راستے میں گری چیز کے اٹھا لینے) کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی تھیلی اور بندھن کی خوب جانچ پڑتال کرو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کر دو، اگر اس عرصہ میں اس کا مالک آجائے تو اسے دے دو وگرنہ وہ چیز تمہاری ہے۔“
حدیث نمبر: 1487
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ: أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ نَزَلَ مَنْزِلًا بِطَرِيقِ الشَّامِ، فَوَجَدَ صُرَّةً فِيهَا ثَمَانُونَ دِينَارًا، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ: عَرِّفْهَا عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، وَاذْكُرْهَا لِمَنْ يَقْدَمُ مِنَ الشَّامِ سَنَةً، فَإِذَا مَضَتِ السَّنَةُ فَشَأْنُكَ بِهَا.
حافظ محمد فہد
عبید اللہ بن بدر نے بیان کیا کہ اس نے شام کے راستوں پر سفر کیا تو انہوں نے راستے میں ایک تھیلی پائی جس میں اَسی دینار تھے، پھر عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مسجد کے دروازوں پر اس کا اعلان کرو، اور ایک سال تک جو بھی شام سے آئے اسے بتاؤ اور جب سال گزر جائے تو وہ تھیلی تمہاری ہے۔
حدیث نمبر: 1488
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ لَقُطَةً، فَجَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ لُقَطَةً، فَمَاذَا تَرَى؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: عَرِّفْهَا. قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ. قَالَ: زِدْ. قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ. قَالَ: لَا آمُرُكَ أَنْ تَأْكُلَهَا، وَلَوْ شِئْتَ لَمْ تَأْخُذْهَا. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے راستے سے گری پڑی کوئی چیز اٹھا لی پھر وہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا: میں نے لقطہ پائی ہے، اب کیا کروں؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس کا اعلان کرو۔ اس نے کہا: میں نے کیا۔ ابن عمر نے کہا: مزید کرو۔ اس نے کہا: میں نے بہت کیا۔ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تجھے ایسی چیز کے کھانے کا حکم نہیں دیتا، اگر تو چاہتا تو اسے نہ پکڑتا۔