حدیث نمبر: 1481
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ وَعُبَيْدَ اللَّهِ ابْنَيْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَا فِي جَيْشٍ إِلَى الْعِرَاقِ، فَلَمَّا قَفَلَا، مَرَّا بِعَامِلٍ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَرَحَّبَ بِهِمَا وَسَهَّلَ وَهُوَ أَمِيرُ الْبَصْرَةِ، وَقَالَ: وَلَوْ أَقْدِرُ لَكُمَا عَلَى أَمْرٍ أَنْفَعُكُمَا بِهِ، لَفَعَلْتُ، ثُمَّ قَالَ: بَلَى إِنَّ هَهُنَا مَالًا مِنْ مَالِ اللَّهِ تَعَالَى أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَ بِهِ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَأُسْلِفُكُمَاهُ فَتَبْتَاعَانِ بِهِ مَتَاعًا مِنْ مَتَاعِ الْعِرَاقِ، ثُمَّ تَبِيعَانِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَتُؤَدِّيَانِ رَأْسَ الْمَالَ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، وَيَكُونُ لَكُمَا الرِّبْحُ، فَقَالَا: وَدِدْنَا تَفْعَلُ، فَكَتَبَ لَهُمَا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُمَا الْمَالَ، فَلَمَّا قَدِمَا الْمَدِينَةَ [ ص: 217 ] بَاعَا، فَرَبِحَا، فَلَمَّا دَفَعَا إِلَى عُمَرَ قَالَ لَهُمَا: أَكُلَّ الْجَيْشِ قَدْ أَسْلَفَهُ كَمَا أَسْلَفَكُمَا؟ فَقَالَا: لَا. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ابْنَا أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَأَسْلَفَكُمَا. أَدِّيَا الْمَالَ وَرِبْحَهُ فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ، فَسَكَتَ، وَأَمَّا عُبَيْدُ اللَّهِ، فَقَالَ: مَا يَنْبَغِي لَكَ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ هَلَكَ الْمَالُ أَوْ نَقُصَ، لَضَمِنَّاهُ، فَقَالَ: أَدِّيَاهُ، فَسَكَتَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَاجَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَاءِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَوْ جَعَلْتَهُ قِرَاضًا، فَأَخَذَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأْسَ الْمَالِ وَنِصْفَ رِبْحِهِ، وَأَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ وَعُبَيْدُ اللَّهِ نِصْفَ رِبْحِ ذَلِكَ الْمَالِ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الرُّهُونِ وَالْإِجَارَاتِ.
حافظ محمد فہد
زید بن اسلم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے عبداللہ اور عبید اللہ رضی اللہ عنہما مجاہدین کے لشکر کے ساتھ عراق کی طرف نکلے، جب دونوں واپس مڑے تو یہ دونوں عمر رضی اللہ عنہ کے ایک گورنر کے پاس سے گزرے، اس نے ان کو خوش آمدید کہا اور وہ بصرہ کا امیر تھا۔ اس نے کہا: ”اگر مجھے تمہارے لیے کسی معاملے کا اختیار ہوتا جس سے تمہیں فائدہ پہنچا سکتا تو ضرور کرتا۔“ پھر اس نے کہا: ”ہاں! (یاد آیا) یہاں اللہ تعالیٰ کے مال میں سے مال ہے جسے میں امیر المومنین کی طرف بھیجنا چاہتا ہوں، میں وہ تمہیں بطور قرض دیتا ہوں، تم دونوں اس سے عراق کا سامان خرید کر مدینہ میں بیچ دینا، پھر اصل مال امیر المومنین کو دے دینا اور نفع تمہارا ہو جائے گا۔“ ان دونوں نے کہا: ”ہمیں منظور ہے، آپ مال ہمیں دے دیں۔“ پھر امیر بصرہ نے ان کو عمر رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھ کر دیا کہ ان سے مال وصول کر لیں۔ جب وہ دونوں مدینہ آئے تو انہوں نے مال بیچ کر نفع حاصل کیا۔ پھر جب اصل مال عمر رضی اللہ عنہ کو دیا تو انہوں نے دونوں سے پوچھا: ”کیا اس نے سارے لشکر والوں کو اسی طرح قرض دیا ہے جس طرح تم دونوں کو دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”امیر المومنین کے دو بیٹوں کو (ہی) قرض دیا! تم اصل مال اور اس سے حاصل شدہ نفع دونوں ادا کر دو۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہ تو یہ سن کر خاموش رہے البتہ عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے امیر المومنین! یہ آپ کے لیے جائز نہیں ہے، کیونکہ اگر مال تباہ ہو جاتا یا اس میں نقصان ہوتا تو ہم اس کے ضامن تھے (ہمیں ہی بھرنا پڑتا)۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا: ”اس کو ادا کر دو۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ تو خاموش رہے البتہ عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے دوبارہ بات دہرائی۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: ”اے امیر المومنین! اگر آپ اسے قراض (مضاربت) کی صورت دے دیں تو بہتر ہے۔“ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اصل مال اور آدھا نفع لے لیا اور اس مال کا آدھا نفع عبداللہ رضی اللہ عنہ اور عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے لیا۔