حدیث نمبر: 1466
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ: أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَى الْأَرْضِ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ فَقَالَ: أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟ فَقَالَ: أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ. [ ص: 209 ]
حافظ محمد فہد
حنظلہ بن قیس سے روایت ہے کہ اس نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو ٹھیکہ پر دینے سے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کو ٹھیکہ پر دینے سے منع کیا ہے۔ پھر پوچھا، کیا سونے اور چاندی کے عوض (منع فرمایا ہے)؟ فرمایا: ”اگر سونے اور چاندی کے عوض ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 1467
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّهُ سَأَلَ عَنِ اسْتِكْرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ.
حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے زمین کو سونے اور چاندی کے عوض کرایہ پر لینے کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 1468
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ شَبِيهًا بِهِ.
حافظ محمد فہد
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے اپنے باپ کے واسطہ سے سابقہ حدیث سے ملتی جلتی بات مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1469
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ بِمِثْلِهِ.
حافظ محمد فہد
سالم رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1470
أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ يَشْتَرِطُ [ ص: 211 ] عَلَى الَّذِي يَكْرِيهِ أَرْضَهُ أَلَا يَعُرَّهَا، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَدَعَ عَبْدُ اللَّهِ الْكِرَى. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الرُّهُونِ وَالْإِجَارَاتِ، وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ الدَّعَاوِي وَالْبَيِّنَاتِ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ان سے کوئی ان کی زمین کرایہ پر لیتا تو وہ یہ شرط عائد کرتے کہ وہ (زمین میں) کھاد نہیں ڈالے گا اور یہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے زمین کو کرایہ پر دینے کا معاملہ چھوڑ دینے سے پہلے کی بات ہے۔