حدیث نمبر: 1450
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَلَمْ يَسْمَعْ أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بِعْهُ" ، فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، وَلَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدَهُ حَتَّى يَسْأَلَهُ: أَعَبْدٌ هُوَ أَوْ حُرٌّ.
حافظ محمد فہد
جابر رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ ایک غلام نے رسول اللہ ﷺ سے ہجرت کرنے پر بیعت کی، اور آپ ﷺ نے یہ معلوم نہ کیا کہ وہ غلام ہے کہ اتنے میں اس کا مالک اسے لینے آگیا۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس کو بیچ دو۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے دو حبشی غلاموں کے عوض خرید لیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے کسی سے اس وقت تک بیعت نہ کی جب تک کہ یہ نہ پوچھ لیا کہ کیا وہ غلام ہے یا آزاد۔
حدیث نمبر: 1451
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي تَمِيمٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُصَدِّقًا لَهُ فَجَاءَ بِظَهْرٍ مُسِنَّاتٍ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "هَلَكْتَ وَأَهْلَكْتَ" . فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَبِيعُ الْبَكْرَيْنِ وَالثَّلَاثَ بِالْبَعِيرِ الْمُسِنِّ يَدًا بِيَدٍ، وَعَلِمْتُ مِنْ حَاجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الظَّهْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَذَلِكَ إِذَنْ" .
حافظ محمد فہد
زیاد بن ابی تمیم (عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے ایک صحابی کو صدقہ اکٹھا کرنے کے لیے بھیجا تو وہ سواری والے دوندے اونٹ لے آئے، جب نبی ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”تو خود بھی تباہ ہو گیا اور (دوسروں کو بھی) تو نے ہلاک کر دیا۔“ اس پر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دو اور تین اونٹوں کو ایک دوندے اونٹ کے عوض نقد و نقد بیچتا تھا اور میں نبی ﷺ کی سواری والے اونٹوں کی ضرورت کو جانتا تھا، پھر نبی ﷺ نے فرمایا: ”تب ٹھیک ہے۔“
حدیث نمبر: 1452
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ بَعِيرٍ بِبَعِيرَيْنِ، قَالَ: قَدْ يَكُونُ الْبَعِيرُ خَيْرًا مِنَ الْبَعِيرَيْنِ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک اونٹ کے عوض دو اونٹوں کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: بعض اوقات ایک اونٹ دو اونٹوں سے بہتر ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1453
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَاعَ جَمَلًا لَهُ يُدْعَى عُصَيْفِيرًا بِعِشْرِينَ بَعِيرًا إِلَى أَجَلٍ.
حافظ محمد فہد
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک اونٹ جس کا نام عصیفیر تھا کو بیس اونٹوں کے عوض ایک مدت تک کے لیے بیچا۔
حدیث نمبر: 1454
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ اشْتَرَى رَاحِلَةً بِأَرْبَعِ أَبْعِرَةٍ مَضْمُونَةٍ عَلَيْهِ يُوَفِّيهَا صَاحِبُهَا بِالرَّبَذَةِ.
حافظ محمد فہد
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک سواری کے لیے چار اونٹوں کے بدلے میں خریدا تھا، جس کے متعلق یہ طے ہوا تھا کہ وہ مقام ربذہ میں انہیں دے گا۔
حدیث نمبر: 1455
وَبِهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ اشْتَرَى رَاحِلَةً بِأَرْبَعِ أَبْعِرَةٍ مَضْمُونَةٍ عَلَيْهِ بِالرَّبَذَةِ. أَخْرَجَ الْخَمْسَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْبُيُوعِ، وَالسَّادِسَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
اسی سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے کہ انہوں نے ایک اونٹ چار اونٹوں کے عوض خریدا جس کے متعلق طے تھا کہ وہ مقام ربذہ میں دیں گے۔