کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: گندم کا جو کے بدلے اور کھجور کا کھجور کے بدلے (کمی بیشی سے) تبادلہ
حدیث نمبر: 1404
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ: أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: الْبَيْضَاءُ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنْ شِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ" ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ. فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ.
حافظ محمد فہد
ابو عیاش زید نے بیان کیا کہ اس نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے گیہوں کے عوض جو کی بیع کرنے کے متعلق دریافت کیا تو سعد رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا، ان دونوں میں سے بہتر کیا ہے؟ تو اس نے کہا، گیہوں، پھر انہوں نے اس سے روک دیا اور فرمایا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ سے خشک کھجوروں کو تر کھجوروں کے بدلے بیچنے کا سوال ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تر کھجوریں خشک ہونے کے بعد کم ہو جاتی ہیں؟“ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، ہاں، تو آپ ﷺ نے اس سے منع کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب البيوع / حدیث: 1404
تخریج حدیث اخرجه ابوداود، البيوع، باب في الثمر بالتمر (3359) والترمذى البيوع، باب ماجاء في النهي عن المحاقلة والمزانبة (1225) ، وقال حسن صحيح. وابن ماجة التجارات باب بيع الرطب بالتمر (2264) - وصححه ابن الجارود (657) - والحاكم 2/ 38 ، 39 والذهبي وابن حبان۔
حدیث نمبر: 1405
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ وَعَنْ بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ. [ ص: 182 ] قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي الْعَرَايَا.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جب تک کھجور کے درخت کے پھل کا پک جانا ظاہر نہ ہو اس کی بیع سے منع فرمایا، اسی طرح خشک کھجوروں کی خشک کھجوروں کے بدلے بیع سے بھی منع فرمایا۔ عبداللہ نے بیان فرمایا کہ ہمیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے عرایا میں رخصت دی۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب البيوع / حدیث: 1405
تخریج حدیث اخرجه البخاري ، البيوع، باب بيع المزابنة ، وهى بيع التمر بالثمر...... الخ (2183)، (2199) ومسلم، البيوع ، باب تحريم بيع الرطب بالتمر الافى العرايا (1534)۔ (1539)۔
حدیث نمبر: 1406
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ الشَّيْبَانِيِّ أَوْ غَيْرِهِ، قَالَ: بِعْتُ مَا فِي رُءُوسِ نَخْلِي بِمِائَةِ وَسْقٍ، إِنْ زَادَ فَلَهُمْ، وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيْهِمْ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذَا إِلَّا أَنَّهُ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا.
حافظ محمد فہد
اسماعیل الشیبانی یا ان کے علاوہ کسی اور نے بیان کیا کہ میں نے کھجور کے درختوں کے اوپر ہی کھجوروں کو 100 وسق کے بدلے اس شرط پر بیچا کہ اگر زیادہ ہوں تو خریدار کی ہوں گی اور اگر (100 وسق سے) کم ہوئیں تو نقصان بھی اسی پر ہوگا۔ پھر میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کرنے سے منع فرمایا ہے البتہ آپ ﷺ نے عرایا کی بیع میں اجازت دی۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب البيوع / حدیث: 1406
تخریج حدیث صحيح: اخرجه البيهقى فى المعرفة السنن والآثار (3443) - واحمد : 2/ 11- والطحاوي في شرح معانی الآثار 29/4 - وابن ابي شيبة (22581)۔
حدیث نمبر: 1407
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عریہ والے کے لیے رخصت دی کہ وہ کھجوروں کو اندازے سے بیچ دے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب البيوع / حدیث: 1407
تخریج حدیث اخرجه البخاري، البيوع، باب بيع المزابنة، وهى بيع التمر بالثمر .... الخ (2188) ومسلم، البيوع، باب تحريم بيع الرطب بالتمر الا في العرايا (1539)۔
حدیث نمبر: 1408
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ. [ ص: 184 ] شَكَّ دَاوُدُ، قَالَ: خَمْسَةُ أَوْسُقٍ أَوْ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ.
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بیع عریہ کی اجازت 5 وسق سے کم یا 5 وسق میں دی ہے۔ داؤد رحمہ اللہ کو شک گزرا تو فرمایا: ”5 وسق یا 5 سے کم وسق۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب البيوع / حدیث: 1408
تخریج حدیث اخرجه البخاري، البيوع، باب بيع الثمر على رؤوس النخل بالذهب أو الفضة (2190) ومسلم ، البيوع، باب تحريم بيع الرطب بالتمر الا في العرايا (1541).
حدیث نمبر: 1409
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ إِلَّا أَنَّهُ أَرْخَصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رَطْبًا.
حافظ محمد فہد
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خشک کھجور کی خشک کھجور سے بیع کرنے سے منع فرمایا البتہ آپ ﷺ نے عریہ کی بیع میں اجازت دی کہ انہیں اندازے سے بیچا جائے کہ عریہ والے اس کے عوض تازہ کھجوریں کھائیں۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب البيوع / حدیث: 1409
تخریج حدیث اخرجه البخارى البيوع، باب بيع الثمر على رؤوس النخل بالذهب أو الفضة (2191) ومسلم، البيوع، باب تحريم بيع الرطب بالتمر الا في العرايا (1540)۔
حدیث نمبر: 1410
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ. وَالْمُزَابَنَةُ: بَيْعُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ إِلَّا أَنَّهُ أَرْخَصَ فِي الْعَرَايَا. أَخْرَجَ السَّبْعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْبُيُوعِ.
حافظ محمد فہد
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت کی کھجوروں کو خشک کھجوروں کے بدلے بیچا جائے، البتہ آپ ﷺ نے عرایا میں رخصت دی۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب البيوع / حدیث: 1410
تخریج حدیث أخرجه البخاري، البيوع، باب بيع الثمر على رؤوس النخل بالذهب أو الفضة (2189) ومسلم، البيوع، باب النهي عن المحاقله والمزابنة وعن المخابرة .... الخ (1536)۔