حدیث نمبر: 1391
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ: أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمَائَةِ دِينَارٍ، قَالَ: فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي، وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي أَوْ حَتَّى تَأْتِيَ خَازِنَتِي مِنَ الْغَابَةِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَنَا شَكَكْتُ، وَعُمَرُ يَسْمَعُ، [ ص: 173 ] فَقَالَ: عُمَرُ: وَاللَّهِ لَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يَأْخُذَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ" . قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَرَأْتُهُ عَلَى مَالِكٍ صَحِيحًا لَا شَكَّ فِيهِ، ثُمَّ طَالَ عَلَيَّ الزَّمَانُ فَلَمْ أَحْفَظْ حِفْظًا فَشَكَكْتُ فِي خَازِنَتِي أَوْ خَازِنِي وَغَيْرِي يَقُولُ عَنْهُ: خَازِنِي.
حافظ محمد فہد
مالک بن اوس بن حدثان سے روایت ہے کہ انہیں 100 دینار (درہم سے) بدلنے تھے، بیان کیا کہ مجھے طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے بلایا، ہم نے اپنے معاملہ کی بات چیت کی یہاں تک کہ میرا معاملہ طے ہو گیا، انہوں نے دینار لیے اور انہیں اپنے ہاتھ میں الٹنے پلٹنے لگے پھر فرمایا: ”ذرا میرے خزانچی مرد یا خزانچی عورت کو غابہ سے آ لینے دو۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ مجھے شک ہوا ہے۔ اور عمر رضی اللہ عنہ یہ باتیں سن رہے تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! جب تک تم طلحہ سے روپیہ لے نہ لو جدا نہ ہونا۔“ پھر فرمایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا، سونے کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہے، کھجور کھجور کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہے، اور جو، جو کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے یہ حدیث مالک رحمہ اللہ پر بغیر شک کے صحیح پڑھی، پھر لمبا وقت گزر گیا اور میں یاد نہ رکھ سکا لہذا مجھے خازنی اور خازنتہ میں شک ہو گیا۔ البتہ میرے علاوہ دوسرے راوی امام مالک رحمہ اللہ سے ”خازنی“ بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1392
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ. وَقَالَ: "حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي" ، قَالَ: فَحَفِظْتُ لَا شَكَّ فِيهِ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے عمر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی ﷺ سے مالک کی سند والی حدیث کی طرح روایت ہے، اور فرمایا: ”یہاں تک کہ میرا خزانچی آئے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا، میں نے بغیر شک کے یاد کیا۔
حدیث نمبر: 1393
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ [ ص: 174 ] الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ" .
حافظ محمد فہد
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونے کی چاندی کے عوض بیع اگر نقد نہ ہو تو سود ہے، دانوں کی دانوں کے بدلے میں بیع اگر نقد نہ ہو تو سود ہے۔ کھجور کی کھجور کے بدلے بیع اگر نقد نہ ہو تو سود ہے اور اگر جو کی بیع جو کے بدلے نقد نہ ہو تو سود ہے۔“
حدیث نمبر: 1394
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، وَرَجُلٍ آخَرَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ، وَلَكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ" . قَالَ: "وَنَقَصَ أَحَدُهُمَا التَّمْرَ أَوِ الْمِلْحَ" . قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ: فِي كِتَابِي: عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهِ بِنَظَرٍ فِي كِتَابِ الشَّيْخِ، يَعْنِي: الرَّبِيعَ.
حافظ محمد فہد
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونے کو سونے کے عوض، چاندی کو چاندی کے عوض، دانوں کے بدلے دانوں کو، جو کے بدلے جو کو، اور نمک کے بدلے نمک کو برابر برابر اور معین کو معین کے عوض، اور نقد کو نقد کے علاوہ نہ بیچو، لیکن سونے کو چاندی کے بدلے، چاندی کو سونے کے عوض، گیہوں کو جو کے بدلے، جو کو گیہوں کے عوض کھجور کو نمک کے بدلے اور نمک کو کھجور کے عوض ہاتھوں ہاتھ جس طرح چاہو بیچو۔“ فرمایا: ”مسلم بن یسار اور دوسرے آدمی میں سے ایک نے کھجور یا نمک کو کم کیا ہے۔“ ابوالعباس نے کہا میری کتاب میں ”عن ایوب عن ابن سیرین“ ہے، پھر شیخ یعنی ربیع کی کتاب میں دیکھا۔
حدیث نمبر: 1395
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، وَرَجُلٍ آخَرَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ، وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ، وَلَكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ، وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ، وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ، وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ، وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ، وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ، يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ" . وَنَقَصَ أَحَدُهُمَا التَّمْرَ أَوِ الْمِلْحَ، وَزَادَ أَحَدَهُمَا: "مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى" . أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْبُيُوعِ، وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونے کو سونے کے عوض، چاندی کو چاندی کے عوض، گیہوں کو گیہوں کے عوض، جو کو جو کے عوض، کھجور کو کھجور کے عوض، اور نمک کو نمک کے عوض، برابر برابر بیچنے کے سوا معین کو معین کے سوا، نقد و نقد کے علاوہ نہ بیچو اور لیکن سونے کو چاندی کے عوض، چاندی کو سونے کے عوض، گیہوں کو جو کے بدلے، جو کو گیہوں کے عوض، کھجور کو نمک کے عوض، اور نمک کو کھجور کے عوض جس طرح چاہو نقد و نقد بیچو۔“ دونوں میں سے ایک نے کھجور یا نمک کو کم کیا ہے اور ان دونوں میں سے ایک نے یہ زیادتی بیان کی کہ ”جس نے اضافہ دیا یا زیادہ طلب کیا اس نے سودی کام کیا۔“