کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: مصراۃ (جس جانور کا دودھ تھنوں میں روکا گیا ہو) کی فروخت کا بیان
حدیث نمبر: 1381
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ، وَإِنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا، إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ" .
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اونٹوں اور بکریوں کا دودھ نہ روکو، اور اگر کسی نے روکے ہوئے دودھ والا جانور خرید لیا تو اس کو اختیار ہے دودھ دوہنے کے بعد اگر پسند آجائے تو رکھ لے اور اگر ناپسند ہو تو پھیر دے اور ایک صاع کھجور کا بھی ساتھ دے۔“
حدیث نمبر: 1382
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ، فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ [ ص: 169 ] النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلِبَهَا، إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ" .
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اونٹوں اور بکریوں کا دودھ نہ روکو، اور جس نے روکے ہوئے دودھ والا جانور خرید لیا تو اس کو اختیار حاصل ہے دودھ دوہنے کے بعد اگر پسند ہو تو رکھ لے اور اگر ناپسند ہو تو واپس پھیر کر ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے دے۔“
حدیث نمبر: 1383
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لَا سَمْرَاءَ" . أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی ﷺ سے سابقہ حدیث کی مثل مروی ہے۔ البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ فرمایا: ”اس کو واپس پھیر دے ایک صاع کھجور کے ساتھ نہ کہ گیہوں کے ساتھ۔“