حدیث نمبر: 1370
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ" . قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَابْنُ عُمَرَ الَّذِي سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ابْتَاعَ الشَّيْءَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَجِبَ لَهُ، فَارَقَ صَاحِبَهُ مَشَى قَلِيلًا ثُمَّ رَجَعَ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والے میں سے ہر ایک کو دوسرے پر علیحدہ ہونے تک اختیار باقی ہوتا ہے، سوائے بیع خیار کے (یعنی وہ بیع جس میں اختیار کی شرط پہلے سے لگا دی گئی ہو)۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جنہوں نے یہ بات نبی ﷺ سے سنی تھی، جب کوئی چیز خریدتے اور وہ بیع نافذ کرنا چاہتے تو اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو کر تھوڑا چلتے پھر واپس آجاتے (اس طرح بیع نافذ ہو جاتی)۔
حدیث نمبر: 1371
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔
حدیث نمبر: 1372
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ الْخِيَارُ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ" .
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار حاصل ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں، سوائے بیع خیار کے۔“
حدیث نمبر: 1373
وَأَخْبَرَنَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ نَافِعٌ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ" . قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا ابْتَاعَ الْبَيْعَ فَأَرَادَ أَنْ يُوجِبَ الْبَيْعَ مَشَى قَلِيلًا ثُمَّ يَرْجِعُ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب دو خریدنے اور بیچنے والے بیع کریں تو ہر ایک کو اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہوں یا ان کے درمیان بیعِ خیار نہ ہو۔“ نافع نے کہا کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما کوئی بیع کرتے اور اس کو نافذ کرنا چاہتے تو اس جگہ سے تھوڑا سا چل کر دوبارہ واپس آجاتے۔
حدیث نمبر: 1374
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ. وَأَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، وَجَبَتِ الْبَرَكَةُ فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَتِ الْبَرَكَةُ مِنْ بَيْعِهِمَا" .
حافظ محمد فہد
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیچنے اور خریدنے والے کو جب تک وہ جدا نہ ہوں (بیع توڑنے کا اختیار حاصل ہے)۔ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور عیب نہ چھپائیں تو ان کی بیع میں برکت واجب ہو جاتی ہے، اور اگر جھوٹ بولیں اور عیب چھپائیں تو ان کی بیع سے برکت ختم کر دی جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1375
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْوَضِئِ، قَالَ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ فَبَاعَ صَاحِبٌ لَنَا فَرَسًا مِنْ رَجُلٍ، فَلَمَّا أَرَدْنَا الرَّحِيلَ خَاصَمَهُ إِلَى أَبِي بَرْزَةَ فَقَالَ أَبُو بَرْزَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا" .
حافظ محمد فہد
ابو الوضیء نے بیان کیا کہ ہم ایک جنگ میں تھے کہ ہمارے ایک ساتھی نے ایک آدمی سے گھوڑے کی بیع کی، جب ہم نے کوچ کا ارادہ کیا تو وہ تنازع کو ابو برزہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا تو ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ ”دو خرید و فروخت کرنے والوں کو علیحدہ ہونے تک اختیار حاصل ہے۔“
حدیث نمبر: 1376
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بَعْدَ الْبَيْعِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: عَمَرَكَ اللَّهُ فَمَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "امْرُؤٌ مِنْ قُرَيْشٍ" . قَالَ: وَكَانَ أَبِي يَحْلِفُ مَا الْخِيَارُ إِلَّا بَعْدَ الْبَيْعِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ وَالسَّنَدَ بِلَا مَتْنٍ بَعْدَهُ، فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَإِلَى آخِرِ السَّابِعِ مِنْ كِتَابِ الْبُيُوعِ، وَهِيَ أَوَّلُ مَا فِيهِ.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن طاؤوس اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے بیع (نافذ ہو جانے) کے بعد ایک آدمی کو اختیار دیا تو اس آدمی نے کہا: اللہ آپ کو لمبی زندگی دے، آپ کون ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قریش کا ایک آدمی۔“ عبداللہ نے کہا: میرا باپ قسم کھاتا تھا کہ بیع (نافذ ہو جانے) کے بعد اختیار ہے۔