کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، اور واجب الحج اصل ترکے سے ادا ہوگا
حدیث نمبر: 1353
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُجَاهِدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ" .
حافظ محمد فہد
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(وارث بننے والے) کے لیے وصیت نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 1354
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ وَطَاوُسٍ: أَنَّهُمَا قَالَا: الْحَجَّةُ الْوَاجِبَةُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ.
حافظ محمد فہد
ابن جریح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ طاؤوس اور عطاء رحمہما اللہ نے بیان فرمایا کہ: ”واجب حج (جومیت کے ذمہ تھا) اس کی ادائیگی اصل مال سے ہوگی۔“