کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: قطعی طلاق یافتہ عورت کی وراثت، اگر شوہر عدت میں مر جائے
حدیث نمبر: 1351
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ وَمُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ، عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ الْمَرْأَةَ فَيَبُتُّهَا ثُمَّ يَمُوتُ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: طَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ تُمَاضِرَ بِنْتَ الْأَصْبَغِ الْكَلْبِيَّةَ فَبَتَّهَا، ثُمَّ مَاتَ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا، فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: وَأَمَّا أَنَا فَلَا أَرَى أَنْ تُوَرَّثَ مَبْتُوتَةٌ.
حافظ محمد فہد
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ اس نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ (بائن) دیتا ہے پھر وہ فوت ہو جاتا ہے جبکہ وہ عورت عدت میں ہے۔ تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے تماضر بنت اصبغ کلبیہ کو طلاق بتہ دی، پھر وہ فوت ہو گئے جبکہ وہ عورت عدت میں تھی تو عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے وارث بنایا۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، رہی میری بات تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ طلاق بائن والی عورت کو وارث نہیں بنایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 1352
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: وَكَانَ أَعْلَمَهُمْ بِذَلِكَ. وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَلْبَتَّةَ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْهُ بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتُهَا. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الرَّجْعَةِ.
حافظ محمد فہد
طلحہ بن عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا اور وہ اس مسئلہ کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیماری میں اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کو ان کے مال کا عدت ختم ہونے کے بعد وارث بنایا۔