کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: توبہ پیش کرنے اور اس عورت کا بیان جس نے کسی خاندان میں ایسے بچے کو شامل کیا جو ان میں سے نہیں
حدیث نمبر: 1344
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ، وَقَالَ هَكَذَا بِإِصْبَعَيْهِ الْمُسَبِّحَةِ وَالْوُسْطَى فَفَرَّقَهُمَا الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا، يَعْنِي الْمُسَبِّحَةَ، وَقَالَ: "اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ" .
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے دو میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کرا دی، اور اس طرح کیا کہ اپنی شہادت اور درمیان والی انگلیوں کو ملایا پھر علیحدہ کر کے اشارہ سے بات سمجھائی۔ اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے، پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرتا ہے؟“
حدیث نمبر: 1345
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمَقْبُرِيَّ يُحَدِّثُ الْقُرَظِيَّ، قَالَ الْمَقْبُرِيُّ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ، وَلَمْ يُدْخِلْهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ. وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، احْتَجَبَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْهُ، وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ فِي الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ" . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الظِّهَارِ وَاللِّعَانِ.
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا، جب لعان کی آیات نازل ہوئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس عورت نے کسی قوم میں کسی کو داخل کر دیا جو ان میں سے نہیں ہے (یعنی زنا کی اولاد پیدا کی) تو اس عورت کے لیے اللہ کی طرف سے کچھ خیر نہیں ہے اور نہ ہی اللہ اسے جنت میں داخل کریں گے، اور جس آدمی نے اپنے بچے کا انکار کر دیا باوجود اس کے کہ وہ اس کی طرف دیکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ فرما لیں گے اور اسے پہلوں اور پچھلوں تمام لوگوں کے سامنے رسوا کریں گے۔“