حدیث نمبر: 1329
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ: أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ لَهُ: أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا يَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ. فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتَنِي عَنْهَا. فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا" . فَقَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلَاعُنِهِمَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
حافظ محمد فہد
سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عویمر العجلانی رضی اللہ عنہ، عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: ”اے عاصم! تمہارا کیا خیال ہے اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے تو وہ اسے قتل کر دے تو تم اسے قصاص میں قتل کرو گے، پھر وہ کیا کرے؟ عاصم! میرے لیے آپ یہ مسئلہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کر دیجیے“۔ جب عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سوالات کو ناپسند کیا اور اس سلسلے میں آپ ﷺ نے جو بات کہی وہ عاصم رضی اللہ عنہ پر ناگوار گزری۔ پھر جب عاصم رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے ان سے آکر پوچھا: ”اے عاصم! رسول اللہ ﷺ نے کیا جواب دیا؟“ تو عاصم رضی اللہ عنہ نے عویمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ کی طرف سے مجھے خیر نہیں پہنچی، رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو ناگوار جانا جو تم نے پوچھی تھی“۔ عویمر نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں یہ مسئلہ پوچھے بغیر نہیں رہوں گا“۔ چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے، عویمر نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پاتا ہے اور اس کو قتل کر دے تو پھر کیا تم اسے قصاصاً قتل کر دو گے؟ وہ کیا کرے؟“ (یہ سن کر) نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں وحی نازل کی ہے، لہذا تم جاؤ اور اسے لے کر آؤ“۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر دونوں (میاں بیوی) نے لعان کیا اور میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت موجود تھا، جب لعان سے دونوں فارغ ہوئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اس کے بعد بھی میں اسے اپنے پاس رکھوں تو (مطلب یہ ہوگا) کہ میں جھوٹا ہوں، لہذا اس نے اپنی بیوی کو رسول اللہ ﷺ کے حکم سے پہلے ہی تین طلاق دے دیں“۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر لعان کرنے والوں کے لیے یہی طریقہ جاری ہو گیا۔
حدیث نمبر: 1330
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: جَاءَ عُوَيْمِرٌ الْعَجْلَانِيُّ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ بْنَ عَدِيٍّ: سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَيَقْتُلُهُ أَيُقْتَلُ بِهِ؟ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَسَأَلَ عَاصِمٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ، فَلَقِيَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: صَنَعْتُ أَنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَابَ الْمَسَائِلَ. فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَسْأَلَنَّهُ فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ فِيهِمَا فَدَعَاهُمَا فَلَاعَنَ بَيْنَهُمَا. فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: إِنِ انْطَلَقْتُ بِهَا لَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ، فَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلَا أَرَاهُ إِلَّا كَاذِبًا" فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَصَارَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
حافظ محمد فہد
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عویمر العجلانی رضی اللہ عنہ، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”اے عاصم! میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھ دو کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو پاتا ہے اور وہ اس (غیر مرد) کو قتل کر دے تو پھر کیا اسے قصاصاً قتل کیا جائے گا؟ لہٰذا وہ کیا کرے؟“ عاصم نے نبی ﷺ سے سوال کیا، تو نبی ﷺ نے ان مسائل کو ناپسند فرمایا۔ پھر عاصم رضی اللہ عنہ کو عویمر رضی اللہ عنہ ملے تو انہوں نے پوچھا: ”آپ نے (میرے مسئلہ کا) کیا کیا؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے پوچھا لیکن تجھ سے میری طرف بھلائی نہیں پہنچی۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ کو یہ مسئلہ ناگوار گزرا۔“ پھر عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں خود رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر دریافت کروں گا“۔ وہ آئے تو آپ ﷺ پر ان دونوں (میاں بیوی) کے متعلق قرآن نازل ہو چکا تھا، آپ ﷺ نے ان دونوں کو بلایا اور ان کے درمیان لعان کروایا، پھر عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر اب بھی میں اس کو ساتھ لے کر جاؤں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹا ہوں“۔ لہٰذا انہوں نے اسے رسول اللہ ﷺ کے حکم دینے سے پہلے ہی تین طلاقیں دے دیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو دیکھو! اگر یہ سیاہ فام، کالی آنکھوں والا، بڑی سرینوں والا بچہ جنے تو میں سمجھوں گا کہ شوہر نے اس کے متعلق سچ کہا، اور اگر یہ (عورت) سرخ، وحرہ کی طرح پست قد والا بچہ جنے تو میں سمجھوں گا کہ عورت سچی ہے (اور خاوند نے تہمت لگائی ہے)۔“ جب بچہ پیدا ہوا تو وہ بری صفت پر تھا (یعنی اس مرد کے ہم شکل تھا جس سے وہ بدنام ہوئی تھی)۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر لعان کرنے والوں کے لیے یہی طریقہ رائج ہو گیا۔
حدیث نمبر: 1331
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ عُوَيْمِرًا جَاءَ إِلَى عَاصِمٍ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَيَقْتُلُهُ أَتَقْتُلُونَهُ بِهِ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا فَرَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى عُوَيْمِرٍ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَآتِيَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ وَقَدْ نَزَلَ الْقُرْآنُ خِلَافَ عَاصِمٍ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَدْ نَزَلَ فِيكُمَا الْقُرْآنُ فَتَقَدَّمَا فَتَلَاعَنَا، ثُمَّ قَالَ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَفَارَقَهَا وَمَا أَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَضَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ قَصِيرًا كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَعْيَنَ ذُو أَلْيَتَيْنِ فَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ.
حافظ محمد فہد
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عویمر رضی اللہ عنہ، عاصم رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: ”ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو پاتا ہے اور وہ اسے قتل کر دے، پھر کیا تم اسے بھی قصاص کے طور پر قتل کر دو گے؟ لہٰذا وہ آدمی کیا کرے؟ عاصم! میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے سوال پوچھ دو۔“ انہوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے اسے ناپسند جانا اور ناگواری کا اظہار کیا۔ عاصم رضی اللہ عنہ، عویمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ نبی ﷺ نے مسئلے کو ناپسند جانا اور ناگواری کا اظہار بھی کیا، تو عویمر نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں خود نبی ﷺ کے پاس جاؤں گا۔“ وہ آئے تو عاصم رضی اللہ عنہ کے جانے کے بعد قرآن نازل ہو چکا تھا، انہوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بارے میں قرآن نازل ہوا ہے، پھر وہ دونوں (میاں بیوی) آئے اور انہوں نے لعان کیا۔“ پھر عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر میں اب بھی اسے اپنے نکاح میں رکھوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں جھوٹا ہوں“، چنانچہ انہوں نے اسے علیحدہ کر دیا (یعنی طلاق دے دی) جبکہ نبی ﷺ نے انہیں یہ حکم نہیں دیا تھا، پھر یہی طریقہ لعان کرنے والوں میں رائج ہو گیا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دیکھو! اگر اس (عورت) نے سرخ، پست قد والا، چھپکلی کی مانند بچہ جنا تو میں سمجھوں گا کہ اس کے شوہر نے اس پر تہمت لگائی ہے اور اگر اس نے سیاہ رنگ کا، بڑی آنکھوں والا اور بڑی سرینوں والا بچہ جنا تو میں سمجھوں گا کہ اس کے شوہر نے اس کے متعلق سچ کہا ہے۔“ جب بچہ پیدا ہوا تو وہ ناپسندیدہ صفت کا تھا (یعنی زنا سے تھا)۔
حدیث نمبر: 1332
سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنْ جَاءَتْ بِهِ أَشْقَرَ سَبْطًا فَهُوَ لِزَوْجِهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُدَيْعِجَ فَهُوَ لِلَّذِي يَتَّهِمُهُ قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ أُدَيْعِجَ.
حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ سرخ اور سیدھے بالوں والا بچہ جنے تو وہ اس کے خاوند کا ہے، اور اگر یہ کالا سیاہ بچہ جنے تو وہ اس کا ہے، جس کے بارے میں تہمت لگی ہے۔“ فرمایا: پھر اس نے کالا سیاہ بچہ جنا۔
حدیث نمبر: 1333
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ [ ص: 141 ] رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهِ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ قَضَى فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ، قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ، ثُمَّ فَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ سُنَّةً بَعْدَهُمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ. وَكَانَتْ حَامِلًا فَأَنْكَرَهَا فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ.
حافظ محمد فہد
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار سے ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو پائے تو وہ اسے قتل کر دے؟ پھر آپ بھی اسے قصاص میں قتل کریں گے یا اب اسے کیا کرنا چاہیے؟“ ان ہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی وہ آیات نازل کیں جن میں لعان کرنے والوں کی تفصیل ہے۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا: ”تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں فیصلہ ہو گیا۔“ بیان کیا کہ پھر دونوں نے لعان کیا اور میں وہاں موجود تھا، پھر شوہر نے بیوی کو نبی ﷺ کی موجودگی میں (تین) طلاقیں دے دیں، پھر اس کے بعد یہ دستور ہو گیا کہ لعان کرنے والوں کو علیحدہ علیحدہ کرایا جائے، اور وہ عورت حاملہ تھی تو اس کے خاوند نے بچے کا باپ بننے سے انکار کر دیا تو وہ بیٹا اپنی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 1334
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: شَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ بِحَدِيثِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ شَدَّادٍ: هِيَ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُهَا" . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ قَدْ أَعْلَنَتْ.
حافظ محمد فہد
قاسم بن محمد سے روایت ہے، فرمایا کہ میں اس وقت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا جب انہوں نے لعان کرنے والوں کی بات بیان کی، تو عبداللہ بن شداد نے انہیں کہا: ”یہ وہی عورت تھی جس کے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو بغیر گواہی کے رجم کرتا تو اس عورت کو کرتا“؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”نہیں، وہ تو علانیہ فحش حرکات کرتی تھی۔“
حدیث نمبر: 1335
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَذَكَرَ حَدِيثَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ابْصُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ، فَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلَا أَرَاهُ إِلَّا كَاذِبًا فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ" .
حافظ محمد فہد
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور انہوں نے لعان کرنے والوں کی حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس کو دیکھو! اگر اس نے سیاہ فام، سیاہ آنکھوں والا، بڑی سرینوں والا بچہ جنا تو میں سمجھوں گا کہ اس کے شوہر نے اس کے متعلق سچ کہا، اور اگر اس نے سرخ، چھپکلی کی مانند (پستہ قد والا) بچہ جنا تو میں سمجھوں گا کہ اس کے شوہر نے اس پر تہمت لگائی ہے، اس عورت نے اس آدمی کے ہم شکل بچہ جنا جو بری صفت والا تھا۔“
حدیث نمبر: 1336
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنْ جَاءَتْ بِهِ أُمَيْغِرَ سَبْطًا فَهُوَ لِزَوْجِهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُدَيْعِجَ جَعْدًا فَهُوَ لِلَّذِي يَتَّهِمُهُ" . فَجَاءَتْ بِهِ أُدَيْعِجَ.
حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب اور عبید اللہ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ سرخ، سیدھے بالوں والا بچہ جنے تو وہ اس کے خاوند کا ہے، اور اگر یہ کالا اور گھنگھریالے بالوں والا بچہ جنے تو وہ اس کا ہے جس سے تہمت لگائی گئی ہے۔“ اس نے کالا سیاہ بچہ جنا۔
حدیث نمبر: 1337
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَجْلَانِيُّ وَهُوَ أُحَيْمِرُ سَبْطٌ نِضْوُ الْخَلْقِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شَرِيكَ بْنَ السَّحْمَاءِ، يَعْنِي: ابْنَ عَمِّهِ، وَهُوَ رَجُلٌ عَظِيمُ الْأَلْيَتَيْنِ أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ حَالُ الْخَلْقِ يُصِيبُ فُلَانَةَ، يَعْنِي: امْرَأَتَهُ، وَهِيَ حُبْلَى، وَمَا قَرِبْتُهَا مُنْذُ كَذَا، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِيكًا فَجَحَدَهُ وَدَعَا الْمَرْأَةَ فَجَحَدَتْ، فَلَاعَنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا وَهِيَ حُبْلَى، ثُمَّ قَالَ: "تُبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَدْعَجَ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ فَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا" . فَجَاءَتْ بِهِ أَدْعَجَ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا: "إِنَّ أَمْرَهُ لَبَيِّنٌ لَوْلَا مَا قَضَى اللَّهُ" . يَعْنِي: أَنَّهُ لِمَنْ زَنَى لَوْلَا مَا قَضَى اللَّهُ مِنْ أَنْ لَا يُحْكَمَ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا بِإِقْرَارٍ أَوِ اعْتِرَافٍ عَلَى نَفْسِهِ، لَا يَحِلُّ بِدَلَالَةِ غَيْرِ وَاحِدٍ [ ص: 143 ] مِنْهُمَا وَإِنْ كَانَتْ بَيِّنَةً، فَلَوْلَا مَا قَضَى اللَّهُ لَكَانَ لِي فِيهَا قَضَاءٌ غَيْرُهُ وَلَمْ يَعْرِضْ لِشَرِيكٍ وَلَا لِلْمَرْأَةِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَأَنَفْذَ لِلْحُكْمِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَهُمَا كَاذِبٌ. ثُمَّ عَلِمَ بَعْدُ أَنَّ الزَّوْجَ هُوَ الصَّادِقُ.
حافظ محمد فہد
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ عویمر العجلانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور وہ سرخ رنگ، سیدھے بالوں والے اور کمزور جسم کے مالک تھے۔ انہوں نے کہا، یا رسول اللہ! آپ کا شریک بن سحماء یعنی میرے چچا زاد بھائی کے متعلق کیا خیال ہے۔ وہ بڑی سرینوں والے، کالی آنکھوں اور مضبوط اعضاء کے مالک، زیادہ گوشت والے آدمی تھے۔ وہ فلاں عورت یعنی ان کی بیوی کو پہنچا اور وہ اب حاملہ ہے، اور میں اس دن سے اس کے قریب نہیں ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شریک کو بلایا، تو انہوں نے انکار کر دیا اور پھر عورت کو بلایا تو اس نے بھی انکار کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت اور اس کے خاوند کے درمیان لعان کرایا، جب کہ وہ عورت حاملہ بھی تھی۔ پھر فرمایا: ”تم دیکھنا اگر اس نے کالا سیاہ، بڑی سرینوں والا بچہ جنا تو میں سمجھوں گا کہ اس کے خاوند نے سچ کہا ہے اور اگر اس نے سرخ، چھپکلی کی مانند بچہ جنا تو میں سمجھوں گا کہ اس (کے خاوند) نے اس پر تہمت لگائی ہے۔“ پھر اس نے کالا، بڑی سرینوں والا بچہ جنا۔ جو بات ہمیں پہنچی ہے وہ یہ کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ کا فیصلہ نہ ہوا ہوتا تو اس کا معاملہ واضح ہے۔“ یعنی یہ بچہ اس کا ہے جس سے اس نے زنا کیا، اگر اللہ کا یہ حکم نہ ہوتا کہ فیصلہ اقرار یا بذات خود اعتراف پر کیا جائے، لہٰذا دونوں میں سے کسی ایک کے دوسرے پر تہمت لگانے پر فیصلہ درست نہیں اگر چہ معاملہ واضح ہی ہو۔ اور اگر اللہ کا فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو میں اس میں دوسرا فیصلہ (یعنی رجم) کرتا۔ بعد میں نہ آپ نے شریک سے کچھ کہا اور نہ ہی اس عورت سے، اور بہتر علم اللہ کے پاس ہے۔ اور حکم الہی کا نفاذ زیادہ بہتر ہے باوجود اس کے کہ آپ جانتے تھے کہ ان دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔ پھر بعد میں پتہ بھی چل گیا کہ خاوند اپنے دعوی میں سچا تھا۔
حدیث نمبر: 1338
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولِ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا لِي عَهْدٌ بِأَهْلِي مُنْذُ عِفَارِ النَّخْلِ، قَالَ: وَعِفَارُهَا أَنَّهَا إِذَا كَانَتْ تُؤَبَّرُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا لَا تُسْقَى بَعْدَ الْإِبَارِ، قَالَ: وَقَدْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا، قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا مُصَفَّرًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ سَبْطَ الشَّعَرِ، وَالَّذِي رُمِيَتْ بِهِ خَدْلًا إِلَى السَّوَادِ جَعْدًا قَطَطًا مُسْتَهًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اللَّهُمَّ بَيِّنْ" . ثُمَّ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ يُشْبِهُ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا، اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! جب سے کھجوروں کی تعفیر (پیوند کاری) ہوئی میں اپنے گھر والوں سے نہیں ملا۔ ابن عباس نے فرمایا، اعفار کا یہ مطلب ہے کہ کھجور کے درخت کو پیوند لگا کر چالیس روز تک یوں ہی چھوڑ دیتے پھر اسے پیوند لگانے کے بعد پانی نہیں دیتے تھے۔ اس آدمی نے کہا، (واقعہ یہ ہے) کہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو پایا۔ فرمایا: اس کا خاوند زرد رنگ والا، پتلی پنڈلیوں والا، اور سیدھے بالوں والا تھا، اور جس کے ساتھ اس پر تہمت لگائی گئی وہ موٹا، سیاہی مائل رنگت والا اور سخت گھنگھریالے بالوں والا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! اس معاملہ کو واضح کر دے۔“ پھر ان دونوں کے درمیان لعان کرایا، پھر اس نے بچہ اسی آدمی کی شکل کا جنا جس کے ساتھ زنا کی اس پر تہمت لگی تھی۔
حدیث نمبر: 1339
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ لَاعَنَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَمَرَ رَجُلًا أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فِيهِ عِنْدَ الْخَامِسَةِ، وَقَالَ: "إِنَّمَا هِيَ مُوجِبَةٌ" .
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان لعان کرایا تو ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ قسم کھانے والے کے منہ پر پانچویں قسم کے وقت ہاتھ رکھ دے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (پانچویں قسم) ہلاکت و تباہی کی موجب ہے۔“
حدیث نمبر: 1340
حَدَّثَنَاهُ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: شَهِدْتُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ فَلَمْ يُتْقِنْهُ إِتْقَانَ هَؤُلَاءِ. أَخْرَجَ السِّتَّةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الظِّهَارِ وَاللِّعَانِ، وَالسَّابِعَ وَالثَّامِنَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالتَّاسِعَ مِنْ كِتَابِ إِبْطَالِ الِاسْتِحْسَانِ وَهُوَ أَوَّلُ حَدِيثٍ فِيهِ، وَإِلَى آخِرِ الثَّانِي عَشَرَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ.
حافظ محمد فہد
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دو لعان کرنے والے میاں بیوی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دیکھا تھا اور اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔ پھر لمبی حدیث بیان کی اور اسے ان دوسروں کی مانند پختگی سے محفوظ نہیں کیا۔