کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: سوگ منانے (بناؤ سنگھار ترک کرنے) کا بیان
حدیث نمبر: 1309
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ، قَالَ: قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سُفْيَانَ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةُ خَلُوقٍ أَوْ غَيْرُهُ، فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةٌ ثُمَّ مَسَحَتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" .
حافظ محمد فہد
حمید بن نافع سے روایت ہے کہ اسے زینب بنت ابی سلمہ نے تین احادیث بیان کیں، فرمایا کہ زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں اُم المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس وقت آئی جب ان کے والد ابوسفیان کا انتقال ہوا تھا، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے خوشبو منگوائی جس میں خلوق کی زردی یا کسی اور چیز کی ملاوٹ تھی، پھر وہ ایک لونڈی نے انہیں لگائی، پھر خود انہوں نے اسے اپنے رخساروں پر لگایا، پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی کوئی خواہش نہ تھی، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ ”جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی کا سوگ تین دن سے زیادہ منائے سوائے شوہر کے (کہ اس کا سوگ) چار ماہ 10 دن ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العدد والسكنى والنفقات / حدیث: 1309
تخریج حدیث اخرجه البخاری، الطلاق، باب تحد المتوفى عنها اربعة اشهر وعشراً (5334) ومسلم، الطلاق، باب وجوب الإحداد في عدة الوفاة .... الخ (1486)۔
حدیث نمبر: 1310
وَقَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّي أَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: "لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" .
حافظ محمد فہد
اور زینب نے بیان فرمایا کہ اس کے بعد میں زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس اس وقت آئی جب ان کے بھائی فوت ہوئے، تو انہوں نے خوشبو منگوا کر لگائی پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی کوئی خواہش نہ تھی لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر ارشاد فرماتے سنا کہ کسی عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے اس کے خاوند کی میت کے، کیونکہ اس کا سوگ چار ماہ دس دن ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العدد والسكنى والنفقات / حدیث: 1310
تخریج حدیث اخرجه البخاري، الطلاق، باب تحد المتوفى عنها اربعة اشهر وعشرا (5335) ومسلم، الطلاق، باب وجوب الاحداد في عدة الوفاة .... الخ (1487)۔
حدیث نمبر: 1311
وَقَالَتْ زَيْنَبُ: سَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا، أَفَنَكْحِلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا" ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: "لَا" ، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ" . [ ص: 129 ] قَالَتْ زَيْنَبُ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، دَخَلَتْ حِفْشًا، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلَا شَيْئًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ أَوْ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَقْبِضُ بِهِ، فَقَلَّمَا تَقْبِضُ بِشَيْءٍ إِلَّا مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ، فَتُعْطَى بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا، ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدَهُ مَا شَاءَتْ مِنَ الطِّيبِ أَوْ غَيْرِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: الْحِفْشُ: الْبَيْتُ الصَّغِيرُ الذَّلِيلُ مِنَ الشَّعَرِ وَالْبِنَاءِ وَغَيْرِهِ. وَالْقَبْصُ: أَنْ تَأْخُذَ مِنَ الدَّابَّةِ مَوْضِعًا بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهَا. وَالْقَبْضُ: الْأَخْذُ بِالْكَفِّ كُلِّهَا.
حافظ محمد فہد
اور زینب نے بیان کیا کہ میں نے اپنی ماں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرماتی ہیں، ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میری بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا، اور اس کی آنکھیں خراب ہیں کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“، دو یا تین دفعہ کہا، ہر مرتبہ یہ فرماتے تھے کہ نہیں، پھر فرمایا: ”یہ (عدت شرعی) چار ماہ 10 دن ہے، جاہلیت میں تو تمہیں ایک سال بعد مینگنی پھینکنی پڑتی تھی۔“ (یعنی جاہلیت میں تو عدت ایک سال تھی اور اب چار ماہ 10 دن پر بھی صبر نہیں)۔ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا، جب کسی عورت کا (زمانہ جاہلیت میں) خاوند فوت ہو جاتا تو وہ ایک تنگ کوٹھڑی میں داخل ہو جاتی، اور وہ سب سے برے کپڑے زیب تن کرتی، خوشبو یا کوئی اور چیز استعمال نہ کرتی یہاں تک کہ اسی حال میں سال گزر جاتا، پھر (عدت سے باہر آنے کے لیے) ایک چوپایا، گدھا یا بکری یا کسی پرندے کو لایا جاتا اور وہ اس کو پکڑتی، ایسا کم ہی ہوتا کہ وہ کسی جانور کے کسی حصے کو پکڑتی اور وہ نہ مرتا ہو، پھر عدت سے نکلتی، اور اسے مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی، پھر وہ خوشبو یا اور کوئی چیز استعمال کرتی۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: حِفش کا مطلب ہے: چھوٹا، بالوں اور اینٹوں وغیرہ سے بنا ہوا گھر، اور القَبص سے مراد ہے کہ آپ اپنی انگلیوں سے چوپائے کی کسی جگہ کو پکڑیں، اور قبض سے مراد تمام ہتھیلی سے پکڑنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العدد والسكنى والنفقات / حدیث: 1311
تخریج حدیث اخرجه البخاري ،الطلاق، باب تحد المتوفى عنها اربعة اشهر وعشرا (5336) ومسلم، الطلاق، باب وجوب الاحداد فى عدة الوفاة، وتحريمه في غير ذلك الخ (1488) ، (1489)۔
حدیث نمبر: 1312
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَحَفْصَةَ، أَوْ عَائِشَةَ أَوْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" . أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ.
حافظ محمد فہد
عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوا اپنے خاوند کے کہ (اس کا سوگ چار ماہ 10 دن ہے۔)“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العدد والسكنى والنفقات / حدیث: 1312
تخریج حدیث اخرجه مسلم ،الطلاق، باب وجوب الإحداد فى عدة الوفاة وتحريمه في غير ذلك الا ثلاثة ايام (1490) ، (1841)۔