حدیث نمبر: 1300
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَمَرَّ بِهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، فَقَالَ: قَدْ تَصَنَّعْتِ لِلْأَزْوَاجِ، إِنَّهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ سُبَيْعَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "كَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ، أَوْ لَيْسَ كَمَا قَالَ أَبُو السَّنَابِلِ، قَدْ حَلَلْتِ فَتَزَوَّجِي" .
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے کچھ دنوں بعد بچہ جنا، تو ان کے پاس سے ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ گزرے تو انہوں نے کہا، تو نے شادی کے لیے بناؤ سنگھار کر لیا، جبکہ تیری عدت تو چار ماہ دس دن ہے، سبیعہ نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے بیان کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوسنابل نے غلط بیانی کی یا جس طرح ابو سنابل نے کہا مسئلہ ایسے نہیں، تم عدت سے نکل چکی ہو، شادی کرلو۔“
حدیث نمبر: 1301
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ. فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ. فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ: أَحَدُهُمَا شَابٌّ، وَالْآخَرُ كَهْلٌ، فَخُطِبَتْ إِلَى الشَّابِّ، فَقَالَ الْكَهْلُ: لَمْ تَحْلِلْ، وَكَانَ أَهْلُهَا غُيَّبًا، وَرَجَا إِذَا جَاءَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ بِهَا، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "قَدْ حَلَلْتِ، فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ" .
حافظ محمد فہد
ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے بیان کیا کہ ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے اس حاملہ عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس کا خاوند فوت ہو جائے تو ابن عباس نے فرمایا، دو عدتوں میں سے آخری عدت اسے گزارنی ہوگی، اور ابو ہريرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جب بچہ پیدا ہو جائے تو عدت ختم ہو جائے گی، پھر ابوسلمہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ سبیعہ الاسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے آدھا ماہ بعد بچہ جنا، تو اسے دو آدمیوں نے نکاح کا پیغام بھیجا، ان میں سے ایک نوجوان تھا جبکہ دوسرا ادھیڑ عمر کا تو انہوں نے نوجوان کو نکاح کا پیغام بھیج دیا، پھر ادھیڑ عمر نے کہا، ابھی تیری عدت ختم نہیں ہوئی، اور ان کے گھر والے کہیں گئے ہوئے تھے، اس شخص نے یہ امید کی کہ جب وہ آئیں گے تو اسے (نوجوان پر) ترجیح دیں گے۔ پھر جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری عدت ختم ہو چکی ہے جس سے تو چاہے نکاح کرلے۔“
حدیث نمبر: 1302
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ [ ص: 124 ] وَأَبَا سَلَمَةَ اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَةِ تَنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: إِذَا نَفِسَتْ فَقَدْ حَلَّتْ. قَالَ: فَجَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي، يَعْنِي: أَبَا سَلَمَةَ، فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَجَاءَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهَا قَالَتْ: وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا: "قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي" .
حافظ محمد فہد
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عباس اور ابو سلمہ رضی اللہ عنہما کا اس عورت کے متعلق اختلاف ہو گیا جس کے ہاں خاوند کی وفات کے کچھ دن بعد بچہ پیدا ہوا، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، دو عدتوں میں سے آخری عدت اسے گزارنی ہوگی، اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا، جب اسے نفاس کا خون آگیا تو اس کی عدت ختم ہوگئی، سلیمان نے کہا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے اور انہوں نے کہا میں بھی اپنے بھتیجے یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں (یعنی میرا بھی یہی فتویٰ ہے) آخر انہوں نے ابن عباس کے آزاد کردہ غلام کریب کو ام سلمہ کے پاس بھیجا تو اس نے ان سے یہی مسئلہ پوچھا، پھر وہ ان کے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ انہوں نے کہا کہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے کچھ دن بعد بچہ جنا تو اس نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے بیان کی تو آپ ﷺ نے اسے کہا: ”تیری عدت ختم ہو چکی لہذا تو نکاح کرلے“۔
حدیث نمبر: 1303
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ: أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نَفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي أَنْ تَنْكِحَ فَأَذِنَ لَهَا.
حافظ محمد فہد
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ الاسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے کچھ دن بعد بچہ جنا، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ ﷺ سے نکاح کرنے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے اسے اجازت دے دی۔
حدیث نمبر: 1304
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ يُتَوَفَّى عَنْهَا [ ص: 125 ] زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا فَقَدْ حَلَّتْ. فَأَخْبَرَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَوْ وَلَدَتْ وَزَوْجُهَا عَلَى سَرِيرِهِ لَمْ يُدْفَنْ لَحَلَّتْ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ، وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ.
حافظ محمد فہد
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس عورت کے متعلق پوچھا گیا جس کا خاوند فوت ہو گیا اور وہ حاملہ ہو تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب وضع حمل ہو جائے تو اس کی عدت ختم ہو جائے گی، ان کو ایک انصاری آدمی نے بتایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر کسی عورت نے بچہ جنا کہ اس کا خاوند چارپائی پر ہے ابھی دفن نہیں کیا گیا تو بھی اس کی عدت ختم ہوگئی۔