کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: اس عورت کی عدت کا بیان جس نے عدت کے دوران نکاح کر لیا ہو
حدیث نمبر: 1298
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ طُلَيْحَةَ كَانَتْ تَحْتَ رُشَيْدٍ الثَّقَفِيِّ فَطَلَّقَهَا أَلْبَتَّةَ، فَنَكَحَتْ فِي عِدَّتِهَا. فَضَرَبَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَضَرَبَ زَوْجَهَا بِالْمِخْفَقَةِ ضَرَبَاتٍ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ فِي عِدَّتِهَا، فَإِنْ كَانَ زَوْجُهَا الَّذِي تَزَوَّجَهَا لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، فُرِّقَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنْ زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، وَكَانَ خَاطِبًا مِنَ الْخُطَّابِ، وَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنَ الْأَوَّلِ، ثُمَّ اعْتَدَّتْ مِنَ الْآخَرِ ثُمَّ لَمْ يَنْكِحْهَا أَبَدًا. [ ص: 122 ] قَالَ سَعِيدٌ: وَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْهَا.
حافظ محمد فہد
ابن مسیب اور سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ طلیحہ، رشید ثقفی کے نکاح میں تھیں کہ اس کے خاوند نے اسے طلاق بائن دے دی، پھر اس نے اپنی عدت میں دوسرا نکاح کر لیا، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے اور اس کے دوسرے خاوند کو درے لگائے اور ان کے درمیان جدائی ڈال دی پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس عورت نے بھی اپنی عدت میں نکاح کیا، اگر اس کے اس خاوند نے جس سے اس نے شادی کی ہے صحبت نہیں کی تو ان دونوں کے درمیان علیحدگی کرا دی جائے گی، پھر وہ اپنے پہلے خاوند سے باقی رہنے والی عدت گزارے گی اور یہ (دوسرا خاوند) نکاح کا پیغام بھیجنے والوں میں سے ایک پیغام بھیجنے والا شمار ہوگا۔ اگر انہوں نے صحبت کر لی ہے تو بھی ان کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی، پھر یہ عورت پہلے اور دوسرے خاوند دونوں کی عدت گزارے گی پھر ہمیشہ کے لیے اس (دوسرے) سے نکاح بھی نہیں کر سکتی۔“ سعید نے کہا، اس عورت کے لیے صحبت کرنے کی وجہ سے مہر بھی ادا کرنا ہوگا۔
حدیث نمبر: 1299
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَضَى فِي الَّتِي تَزَوَّجُ فِي عِدَّتِهَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَلَهَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، وَتُكْمِلُ مَا أَفْسَدَتْ مِنْ عِدَّةٍ، وَتَعْتَدُّ مِنَ الْآخَرِ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ.
حافظ محمد فہد
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس عورت کے متعلق فیصلہ دیا، جس نے اپنی عدت میں شادی کی کہ ان دونوں کو علیحدہ علیحدہ کر دیا جائے (یعنی نکاح فسخ کر دیا جائے) اور اس عورت سے صحبت کی وجہ سے اس کے لیے حق مہر بھی ہے، جس عدت کو عورت نے خراب کیا اسے بھی مکمل کرے، اور دوسرے خاوند سے بھی عدت گزارے۔