حدیث نمبر: 1288
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: انْتَقَلَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حِينَ دَخَلَتْ فِي الدَّمِ فِي الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَتْ: صَدَقَ عُرْوَةُ، وَقَدْ جَادَلَهَا فِي ذَلِكَ نَاسٌ، وَقَالُوا: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: ثَلاثَةَ قُرُوءٍ [الْبَقَرَةِ: 228] فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: صَدَقْتُمْ، وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْأَقْرَاءُ؟ الْأَقْرَاءُ الْأَطْهَارُ.
حافظ محمد فہد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حفصہ بنت عبدالرحمن جب وہ تیسرے حیض میں داخل ہو گئیں تو مکان بدل لیا۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے یہ بات عمرہ بنت عبدالرحمن سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا: ”عروہ نے سچ کہا ہے بلکہ لوگوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا پر اعتراض کرتے ہوئے کہا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”تین قروء (تک مطلقہ اپنے آپ کو روکے رکھیں)“ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم نے بالکل سچ کہا، کیا تمہیں پتا ہے اقراء سے کیا مراد ہے؟ اقراء سے مراد طہر ہیں۔“
حدیث نمبر: 1289
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ: مَا أَدْرَكْتُ أَحَدًا مِنْ فُقَهَائِنَا إِلَّا وَهُوَ يَقُولُ هَذَا. يُرِيدُ الَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
حافظ محمد فہد
ابوبکر بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں میں نے تمام فقہاء کو یہی بات کہتے ہوئے پایا ہے یعنی جو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہی، (کہ قروء سے مراد طہر ہے)۔
حدیث نمبر: 1290
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِذَا طَعَنَتِ الْمُطَلَّقَةُ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرمایا: ”جب مطلقہ عورت کو تیسرے حیض کا خون آنا شروع ہو جائے تو وہ اپنے خاوند کی عدت سے فارغ ہوگئی۔“
حدیث نمبر: 1291
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ: أَنَّ الْأَحْوَصَ هَلَكَ بِالشَّامِ حِينَ دَخَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ. وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ زَيْدٌ: إِنَّهَا إِذَا دَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ وَبَرِئَ مِنْهَا، وَلَا تَرِثُهُ وَلَا يَرِثُهَا.
حافظ محمد فہد
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ احوص کی بیوی تیسرے حیض میں داخل ہوئی تو احوص شام میں وفات پا گئے، انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور ان سے مسئلہ پوچھا، تو زید رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا: ”کہ جب یہ تیسرے حیض کے خون میں داخل ہوئی تھی تو یہ اپنے خاوند سے اور وہ اس سے بری ہو چکے تھے، یہ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے۔“
حدیث نمبر: 1292
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: إِذَا طَعَنَتِ الْمُطَلَّقَةُ فِي الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ.
حافظ محمد فہد
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ جب مطلقہ کا تیسرا حیض شروع ہو جائے تو یہ عدت سے فارغ ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 1293
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَدَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ وَبَرِئَ مِنْهَا، لَا تَرِثُهُ وَلَا يَرِثُهَا. أَخْرَجَ السِّتَّةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ.
حافظ محمد فہد
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے اور وہ تیسرے حیض کے خون میں داخل ہو جائے تو یہ عورت اپنے خاوند سے اور وہ اس سے بری ہو جاتے ہیں۔ نہ یہ اس کی وارث بنے گی اور نہ وہ اس کا وارث بنے گا۔“