حدیث نمبر: 1279
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ: أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي أَلْبَتَّةَ، وَوَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً" ، فَقَالَ رُكَانَةُ: مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ.
حافظ محمد فہد
نافع بن عجیر بن عبد یزید سے روایت ہے کہ رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ”میں نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ (قطعی علیحدگی) دے دی ہے، اور اللہ کی قسم میرا ایک ہی کا ارادہ تھا“، تو رسول اللہ ﷺ نے (تصدیق طلب کرتے ہوئے) فرمایا: ”اللہ کی قسم! کیا تیرا ایک ہی کا ارادہ تھا؟“ تو رکانہ نے کہا: ”ہاں میرا ایک کا ہی ارادہ تھا“، تو رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کو دوبارہ ان کے پاس بھیج دیا۔
حدیث نمبر: 1280
أَخْبَرَنَا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ: أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْمُزَنِيَّةَ أَلْبَتَّةَ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي سُهَيْمَةَ أَلْبَتَّةَ، وَوَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرُكَانَةَ: "وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟" ، فَقَالَ رُكَانَةُ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
حافظ محمد فہد
نافع بن عجیر بن عبد یزید سے روایت ہے کہ رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سہیمہ المزنیہ رضی اللہ عنہا کو طلاقِ بتہ دے دی، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاقِ بتہ دے دی ہے، اور اللہ کی قسم، میرا ایک ہی طلاق کا ارادہ تھا“، تو رسول اللہ ﷺ نے رکانہ سے کہا: ”اللہ کی قسم! کیا تیرا ایک ہی کا ارادہ تھا؟“، پھر رکانہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میرا ایک ہی کا ارادہ تھا“، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے رکانہ رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹا دیا، پھر رکانہ نے اس کو دوسری طلاق عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ (خلافت) میں دی اور تیسری طلاق عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ (خلافت) میں دی۔
حدیث نمبر: 1281
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَلْبَتَّةَ، ثُمَّ أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: فَقَرَأَ: وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا [النِّسَاءِ: 66] مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ. قَالَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ امْرَأَتَكَ فَإِنَّ الْوَاحِدَةَ تَبُتُّ.
حافظ محمد فہد
محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ مجھے مطلب بن حنطب رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دی، پھر وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو یہ بات ان سے عرض کی تو انہوں نے کہا: ”تو نے یہ کام کیوں کیا؟“ مطلب کہتے ہیں میں نے کہا: ”بس میں نے یہ کام کر دیا“، یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ”اگر یہ وہی کریں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے، تو یقیناً یہ ان کے لیے بہتر اور زیادہ مضبوطی والا ہو۔“ (النساء: 66)۔ ”تو نے یہ کام کیوں کیا؟“ اس نے کہا: ”بس میں نے یہ کر دیا“۔ پھر انہوں نے فرمایا: ”اپنی عورت کو اپنے پاس روک لے، بے شک یہ ایک ہی (طلاق) ہے۔“
حدیث نمبر: 1282
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِلتَّوْءَمَةِ مِثْلَ قَوْلِهِ لِلْمُطَّلِبِ.
حافظ محمد فہد
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جس طرح مطلب کو کہا ، اسی طرح ہی توامہ سے بھی کہا تھا۔
حدیث نمبر: 1283
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ، فِي الْوَاحِدَةِ وَالِاثْنَتَيْنِ.
حافظ محمد فہد
ابن مسیب سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے تو وہ اس کے رجوع کا زیادہ حقدار ہے، یہاں تک کہ وہ تیسرے حیض سے غسل کرے، یہ رجوع پہلی اور دوسری طلاق کی صورت میں ہے۔
حدیث نمبر: 1284
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ فِي مَسْكَنِ [ ص: 115 ] حَفْصَةَ، وَكَانَ طَرِيقَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَكَانَ يَسْلُكُ الطَّرِيقَ الْآخَرَ مِنْ أَدْبَارِ الْبُيُوتِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ عَلَيْهَا حَتَّى رَاجَعَهَا. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَالسَّادِسَ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اور ان کا مسجد کا راستہ ادھر سے گزرتا تھا، اس کے بعد وہ گھروں کے پیچھے سے دوسرے راستے سے مسجد جاتے ، اس بات کو ناپسند کرنے کی وجہ سے کہ کہیں وہ ان کے ہاں آ نہ جائے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی بیوی سے رجوع کرلیا۔