حدیث نمبر: 1277
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَجَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا كَانَ ذَلِكَ لَهُ، وَإِنْ طَلَّقَهَا أَلْفَ مَرَّةٍ فَعَمَدَ رَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ لَهُ، فَطَلَّقَهَا ثُمَّ أَمْهَلَهَا حَتَّى إِذَا شَارَفَتِ انْقِضَاءَ عِدَّتِهَا، ارْتَجَعَهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا، وَقَالَ: وَاللَّهِ لَا آوِيكِ إِلَيَّ وَلَا تَحِلِّينَ أَبَدًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: الطَّلاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ [الْبَقَرَةِ: 229] فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ الطَّلَاقَ جَدِيدًا مِنْ يَوْمَئِذٍ مَنْ كَانَ مِنْهُنَّ طَلَّقَ أَوْ لَمْ يُطَلِّقْ.
حافظ محمد فہد
عروہ رحمہ اللہ نے بیان فرمایا (اسلام سے پہلے دستور تھا) کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا پھر اس کی عدت ختم ہونے سے پہلے اس سے رجوع کر لیتا، اگرچہ وہ اسے ہزار مرتبہ طلاق دیتا تب بھی آدمی اپنی بیوی کی طرف دوبارہ رجوع کر لیتا۔ پھر ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد مہلت دے دی، یہاں تک کہ جب اس کی عدت ختم ہونے والی ہوتی، وہ اس سے رجوع کر لیتا پھر طلاق دے دیتا، اور وہ کہتا: ”اللہ کی قسم نہ میں تجھے بساؤں گا اور نہ ہی تجھے آزاد کروں گا“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”یہ طلاق دو مرتبہ ہے، پھر یا تو دستور کے مطابق روکنا ہے یا اچھے طریقے سے چھوڑ دینا ہے۔“ (البقرہ: 229) اس آیت کے نزول کے بعد لوگوں نے نئے سرے سے طلاق کا خیال رکھنا شروع کیا، جس نے ان میں سے طلاق دی تھی یا نہ دی تھی۔
حدیث نمبر: 1278
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَجَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا كَانَ ذَلِكَ لَهُ، وَإِنْ طَلَّقَهَا أَلْفَ مَرَّةٍ فَعَمَدَ رَجُلٌ إِلَى امْرَأَتِهِ فَطَلَّقَهَا، حَتَّى إِذَا شَارَفَتِ انْقِضَاءَ عِدَّتِهَا ارْتَجَعَهَا، ثُمَّ طَلَّقَهَا، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَا آوِيكِ إِلَيَّ وَلَا تَحِلِّينَ أَبَدًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: الطَّلاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ [الْبَقَرَةِ: 229] فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ الطَّلَاقَ جَدِيدًا مَنْ كَانَ مِنْهُمْ طَلَّقَ وَمَنْ لَمْ يُطَلِّقْ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ، وَهُوَ آخِرُ حَدِيثٍ فِيهِ.
حافظ محمد فہد
عروہ رحمہ اللہ نے بیان فرمایا (اسلام سے پہلے دستور تھا) کہ ایک آدمی جب اپنی بیوی کو طلاق دیتا تو اس کی عدت ختم ہونے سے پہلے اس سے رجوع کر لیتا، اور اگر وہ اسے ایک ہزار مرتبہ طلاق دیتا تو دوبارہ اپنی بیوی کی طرف رجوع کر لیتا، اور پھر اسے طلاق دے دیتا۔ یہاں تک کہ جب اس کی عدت ختم ہونے والی ہوتی تو وہ پھر اس سے رجوع کر کے طلاق دے دیتا، پھر کہتا: ”اللہ کی قسم نہ میں تجھے بساؤں گا اور نہ ہی تجھے بالکل چھوڑوں گا“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”کہ طلاق دو مرتبہ ہے، پھر یا تو دستور کے مطابق روکنا ہے یا پھر اچھے طریقے سے چھوڑ دینا ہے۔“ (البقرہ: 229) اس آیت کے نزول کے بعد لوگوں میں سے جس نے طلاق دی اور جس نے نہ دی سب نے نئے سرے سے طلاق کا خیال رکھنا شروع کیا۔