کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: خلع (عورت کا شوہر سے علیحدگی لینا) کا بیان
حدیث نمبر: 1232
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ أَخْبَرَتْهَا: أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ هَذِهِ" ؟ فَقَالَتْ: أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ [ ص: 91 ] يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: "مَا شَأْنُكِ" ؟ قَالَتْ: لَا أَنَا وَلَا ثَابِتٌ لِزَوْجِهَا، فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ، قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ" . فَقَالَتْ حَبِيبَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خُذْ مِنْهَا" فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا.
حافظ محمد فہد
عمرہ سے روایت ہے انہوں نے بتلایا کہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا نے اسے خبر دی کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس کے نکاح میں تھیں۔ اور رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو اندھیرے میں حبیبہ بنت سہل کو اپنے دروازے پر پایا، رسول اللہ ﷺ نے دیکھ کر پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: ”میں حبیبہ بنت سہل ہوں اے اللہ کے رسول!“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تجھے کیا پریشانی ہے؟“ اس نے کہا: ”میں اور ثابت اکٹھے نہیں رہ سکتے“۔ پھر جب ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”یہ حبیبہ بنت سہل ہے، اس کے متعلق جو اللہ نے چاہا آپ نے بات چیت کی“۔ حبیبہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! جو کچھ اس نے (بطور حق مہر) مجھے دیا ہے وہ میرے پاس ہے“۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ثابت سے کہا: ”(اپنا دیا ہوا حق مہر) اس سے لے لو“۔ انہوں نے وہ واپس لے لیا اور حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنے میکے خلع لے کر بیٹھ گئیں۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع / حدیث: 1232
تخریج حدیث اخرجه ابوداؤد، الطلاق، باب فی الخلع (2227) والنسائي الطلاق، باب ما جاء في الخلع (3492)۔ وصححه ابن الجارود (749) وابن حبان۔
حدیث نمبر: 1233
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ: أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَلَسِ وَهِيَ تَشْكُو شَيْئًا بِيَدَيْهَا وَهِيَ تَقُولُ: لَا أَنَا وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا ثَابِتُ خُذْ مِنْهَا" . فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ.
حافظ محمد فہد
حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی ﷺ کے پاس اندھیرے میں آئیں، اور اپنے ہاتھوں سے کسی چیز کے متعلق شکایت کرتے ہوئے کہنے لگیں: ”میں اور ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اکٹھے نہیں رہ سکتے“۔ حبیبہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ثابت سے فرمایا: ”اے ثابت اس سے دیا ہوا حق مہر لے لے“۔ انہوں نے حق مہر لے لیا اور وہ خلع لے کر بیٹھ گئیں۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع / حدیث: 1233
تخریج حدیث صحيح اخرجه البيهقی: 313/7 ، 315 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4394)۔ وعبدالرزاق (11762)۔ وسعيد بن منصور في سنته (1430)، (1431)۔
حدیث نمبر: 1234
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ مَوْلَاةٍ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا بِكُلِّ شَيْءٍ لَهَا، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْخُلْعِ وَالنُّشُوزِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ.
حافظ محمد فہد
نافع نے صفیہ بنت ابی عبید کی آزاد کردہ لونڈی کے متعلق بیان کیا کہ اس نے اپنے خاوند سے اپنا سب کچھ دے کر خلع لیا، اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس پر کوئی اعتراض نہ کیا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع / حدیث: 1234
تخریج حدیث اسناده ضعيف لجهاله مولاة صفية - اخرجه البيهقي: 7/315 - وفى المعرفة السنن والآثار له (3495)۔ وعبد الرزاق (11852)، (11853) وابن ابي شيبة (18527)۔