حدیث نمبر: 1223
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: الْمُولِي الَّذِي يَحْلِفُ لَا يَقْرَبُ امْرَأَتَهُ أَبَدًا.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”ایلاء کرنے والا وہ ہے جو ہمیشہ کے لیے عورت کے قریب نہ جانے کی قسم اٹھا لے“۔
حدیث نمبر: 1224
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: أَدْرَكْتُ بِضْعَةَ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يُوقِفُ الْمُولِي. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَأَقَلُّ بِضْعَةَ عَشَرَ أَنْ يَكُونُوا ثَلَاثَةَ عَشَرَ، وَهُوَ يَقُولُ: مِنَ الْأَنْصَارِ.
حافظ محمد فہد
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے دس سے زائد صحابہ کو دیکھا کہ وہ ایلاء کرنے والے کو روک کر پوچھتے تھے (کہ وہ رجوع کرے یا طلاق دے)۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا : (بضعۃ عشر) کی کم سے کم تعداد تیرہ ہے اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ انصار صحابہ رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 1225
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: أَدْرَكْتُ بِضْعَةَ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّهُمْ يُوقِفُ الْمُولِي.
حافظ محمد فہد
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے دس سے زائد صحابہ کو پایا، وہ سب ایلاء کرنے والے کو کھڑا کر کے (طلاق یا رجوع کے بارے میں) پوچھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1226
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْقَفَ الْمُولِيَ.
حافظ محمد فہد
عمرو بن سلمہ نے بیان کیا کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، انہوں نے ایلاء کرنے والے کو (فیصلے کے لیے) کھڑا کیا (تاکہ وہ یا تو طلاق دے دے یا رجوع کر لے)۔
حدیث نمبر: 1227
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ: أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْقَفَ الْمُولِيَ.
حافظ محمد فہد
مروان بن حکم سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ایلاء کرنے والے کو کھڑا کیا (تاکہ فیصلہ ہو سکے)۔
حدیث نمبر: 1228
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ طَاوُسٍ: أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُوقِفُ الْمُولِيَ.
حافظ محمد فہد
طاؤس سے روایت ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ ایلاء کرنے والے کو کھڑا کر کے (طلاق یا رجوع) کے بارے میں پوچھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1229
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، إِذَا ذُكِرَ لَهَا الرَّجُلُ يَحْلِفُ أَنْ لَا يَأْتِيَ امْرَأَتَهُ فَيَدَعَهَا خَمْسَةَ أَشْهُرٍ لَا تَرَى ذَلِكَ شَيْئًا حَتَّى يُوقِفَ. وَتَقُولُ: كَيْفَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ [الْبَقَرَةِ: 229] .
حافظ محمد فہد
قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ جب عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ایسے آدمی کا ذکر کیا جاتا جو قسم کھا لیتا کہ وہ اپنی عورت کے پاس نہیں جائے گا، پھر وہ اسے پانچ ماہ تک چھوڑ دیتا، تو وہ اسے درست نہیں سمجھتی تھیں جب تک کہ اسے روک کر فیصلہ نہ کرا لیا جائے۔ وہ فرماتی تھیں: ”اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ یا تو دستور کے مطابق روکنا ہے یا پھر اچھے طریقے سے چھوڑ دینا ہے“۔
حدیث نمبر: 1230
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا آلَى الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِهِ لَمْ يَقَعْ عَلَيْهَا طَلَاقٌ، وَإِنْ مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ حَتَّى يُوقِفَ، فَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ وَإِمَّا أَنْ يَفِيءَ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی بیوی سے ایلاء کرے تو طلاق واقع نہ ہوگی، اگرچہ چار ماہ ہی کیوں نہ گزر جائیں، یہاں تک کہ اس کو کھڑا کیا جائے کہ یا تو وہ طلاق دے دے یا پھر رجوع کر لے“۔
حدیث نمبر: 1231
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُوقِفُ الْمُولِي. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، وَإِلَى آخِرِ الثَّامِنِ مِنْ كِتَابِ الصَّدَاقِ وَالْإِيلَاءِ وَهِيَ آخِرُ مَا فِيهِ.
حافظ محمد فہد
جعفر بن محمد نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ علی رضی اللہ عنہ ایلاء کرنے والے کو کھڑا کرتے تھے۔