کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: (انتہائی صورت میں) عورتوں کو مارنے کی اجازت (اور اس کی حدود) کا بیان
حدیث نمبر: 1219
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ" ، قَالَ: فَأَتَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَئِرَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَأَذِنَ فِي ضَرْبِهِنَّ. فَأَطَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ، كُلُّهُنَّ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَقَدْ أَطَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ سَبْعُونَ امْرَأَةً، كُلُّهُنَّ يَشْتَكِينَ أَزْوَاجَهُنَّ، وَلَا تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارَكُمْ" . [ ص: 86 ] أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الْخُلْعِ وَالنُّشُوزِ.
حافظ محمد فہد
ایاس بن عبداللہ بن ابوذباب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو مت مارو“۔ پھر آپ ﷺ کے پاس عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں“، تو آپ ﷺ نے انہیں مارنے کی اجازت دے دی۔ تب بہت سی عورتوں نے رسول اللہ ﷺ کے گھر کا چکر لگایا اور اپنے شوہروں کی شکایت کی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ستر عورتوں نے محمد ﷺ کے گھر آکر اپنے شوہروں کی شکایت کی ہے، تم دیکھو! ایسے لوگ اچھے نہیں ہیں“۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع / حدیث: 1219
تخریج حدیث اخرجه ابوداؤد، النکاح باب في ضرب النساء (2146) وابن ماجة النكاح، باب ضرب النساء (1985)۔ وصححه الحاكم : 2/ 188 ، 191 - ووافقه الذهبي وابن حبان۔