حدیث نمبر: 1215
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ بِنْتَ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ كَانَتْ عِنْدَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَكَرِهَ مِنْهَا أَمْرًا؛ إِمَّا كِبْرًا أَوْ غَيْرَهُ، فَأَرَادَ طَلَاقَهَا فَقَالَتْ: لَا تُطَلِّقْنِي، وَأَمْسِكْنِي وَاقْسِمْ لِي مَا بَدَا لَكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا [النِّسَاءِ: 128] الْآيَةَ.
حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ محمد بن مسلمہ کی بیٹی، رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، وہ بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے انہیں ناپسند کرنے لگے تھے۔ جب انہوں نے طلاق کا ارادہ کیا تو بیوی نے کہا: ”مجھے طلاق نہ دیں، مجھے اپنے پاس روکے رکھیں اور میرے حقِ باری کے بارے میں جو چاہیں فیصلہ کریں“۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی بے تعلقی سے ڈرے“۔
حدیث نمبر: 1216
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، سَمِعَهُ يَقُولُ: تَزَوَّجَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَاطِمَةَ بِنْتَ عُتْبَةَ. فَقَالَتْ لَهُ: اصْبِرْ لِي وَأُنْفِقُ عَلَيْكَ، وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا تَقُولُ لَهُ: أَيْنَ عُتْبَةُ وَشَيْبَةُ؟ فَسَكَتَ عَنْهَا، فَدَخَلَ يَوْمًا بَرِمًا، فَقَالَتْ: أَيْنَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَأَيْنَ شَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ؟ فَقَالَ: عَلَى يَسَارِكِ فِي النَّارِ إِذَا دَخَلْتِ. فَشَدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابَهَا فَجَاءَتْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ فَأَرْسَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَمُعَاوِيَةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَأُفَرِّقَنَّ بَيْنَهُمَا. وَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا كُنْتُ لَأُفَرِّقَ بَيْنَ شَيْخَيْنِ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ. قَالَ: فَأَتَيَاهُمَا فَوَجَدَاهُمَا قَدْ شَدَّا عَلَيْهِمَا أَثْوَابَهُمَا فَأَصْلَحَا أَمْرَهُمَا.
حافظ محمد فہد
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ بنت عقبہ سے شادی کی، تو فاطمہ نے ان سے کہا: ”آپ میرے پاس ہی رہیں اور میں آپ پر خرچ بھی کروں گی“۔ وہ جب بھی ان کے پاس آتے تو وہ (فاطمہ) کہتی تھیں: ”عتبہ اور شیبہ کہاں ہیں؟“ تو وہ (یہ سن کر) خاموش ہو جاتے۔ ایک دن وہ اکتائے ہوئے گھر میں داخل ہوئے تو فاطمہ نے کہا: ”عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ کہاں ہیں؟“ عقیل رضی اللہ عنہ نے غصے میں کہا: ”جب تو جہنم میں جائے گی تو وہ تیرے بائیں جانب ہوں گے“۔ (یہ بات اس پر سخت گراں گزری) تو اس نے کپڑے باندھے اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آگئی اور ان سے یہ ساری بات بیان کی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن عباس اور معاویہ رضی اللہ عنہما کو (فیصلے کے لیے) بھیجا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”میں ضرور ان کے درمیان علیحدگی کرواؤں گا“، اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں بنی عبد مناف کے دو بزرگوں کے درمیان علیحدگی نہیں ہونے دوں گا“۔ ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ وہ دونوں ان کے پاس آئے تو ان کو سخت غصے میں پایا، پھر ان دونوں نے ان کے مابین صلح کروا دی۔
حدیث نمبر: 1217
أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا [النِّسَاءِ: 35] . قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَمَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَأَمَرَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا، ثُمَّ قَالَ لِلْحَكَمَيْنِ: تَدْرِيَانِ مَا عَلَيْكُمَا إِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تَجْمَعَا وَإِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تُفَرِّقَا، قَالَ: قَالَتِ الْمَرْأَةُ: رَضِيتُ بِكِتَابِ اللَّهِ بِمَا عَلَيَّ فِيهِ وَلِي. وَقَالَ الرَّجُلُ: أَمَّا الْفُرْقَةُ فَلَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَذَبْتَ وَاللَّهِ حَتَّى تُقِرَّ بِمِثْلِ الَّذِي أَقَرَّتْ بِهِ.
حافظ محمد فہد
عبیدہ رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ اس آیت: ”اگر تمہیں میاں بیوی کی آپس کی ناچاکی کا خوف ہو تو ایک منصف مرد کے گھر والوں سے اور ایک منصف عورت کے گھر والوں کی طرف سے بھیجو“ (النساء : 35) کے متعلق فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس (ان کے عہدِ خلافت میں) ایک میاں بیوی اپنی برادری کے لوگوں کے ساتھ آئے۔ علی رضی اللہ عنہ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک منصف مرد کے گھر والوں سے اور ایک منصف عورت کے گھر والوں سے بھیجیں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے دونوں منصفوں سے کہا: ”کیا تم جانتے ہو تمہارا کام کیا ہے؟ اگر تم مناسب سمجھو تو دونوں میں اتفاق کرا دو اور اگر چاہو تو دونوں کو الگ الگ کرا دو“۔ یہ سن کر عورت نے کہا: ”میں اللہ کی کتاب کے فیصلے پر راضی ہوں خواہ ملاپ کی صورت میں ہو یا جدائی کی صورت میں“، اور آدمی نے کہا: ”مجھے جدائی منظور نہیں ہے“۔ اس پر علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تو جھوٹا ہے، تجھے بھی دونوں صورتیں اسی طرح منظور کرنی پڑیں گی“۔
حدیث نمبر: 1218
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: كَانَتْ بِنْتُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ عِنْدَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَكَرِهَ مِنْهَا شَيْئًا إِمَّا كِبْرًا وَإِمَّا غَيْرَهُ فَأَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَقَالَتْ: لَا تُطَلِّقْنِي وَأَنَا أَحِلُّ لَكَ. فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ: وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا [النِّسَاءِ: 128] الْآيَةَ. قَالَ: فَمَضَتْ بِذَلِكَ السُّنَّةُ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْخُلْعِ وَالنُّشُوزِ وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ النِّكَاحِ مِنَ الْإِمْلَاءِ.
حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ محمد بن مسلمہ کی بیٹی، رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، وہ بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے انہیں ناپسند کرنے لگے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے طلاق دینے کا ارادہ کر لیا۔ تب انہوں نے کہا: ”مجھے طلاق نہ دیں، میں اپنے حقوق سے دستبردار ہوتی ہوں“۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ”اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی بے تعلقی یا بے رخی سے ڈرے“ (النساء : 128)۔ فرمایا: پھر یہی طریقہ رائج ہو گیا۔