کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: (بیوی بچوں کے) اخراجات اور نان و نفقہ کا بیان
حدیث نمبر: 1209
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ: أَنَّ هِنْدَ أُمَّ مُعَاوِيَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَإِنَّهُ لَا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ سِرًّا وَهُوَ لَا يَعْلَمُ، فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ" .
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ ہند رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ابوسفیان (میرا خاوند) بخیل آدمی ہے۔ مجھے اتنا خرچہ نہیں دیتا جو میرے اور میرے بچوں کے لیے کافی ہو۔ ہاں اگر میں ان کی لاعلمی میں ان کے مال سے کچھ لے لوں، کیا مجھ پر اس کا کوئی گناہ تو نہیں؟“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم اچھے طریقے سے اتنا لے سکتی ہو جو تمہارے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو“۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع / حدیث: 1209
تخریج حدیث اخرجه البخاري، النفقات، باب نفقة المرأة اذا غاب عنها زوجها ونفقة الولد (5359) ومسلم، الأقضية، باب قضية هند (1714)۔
حدیث نمبر: 1210
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَلَيْسَ لِي مِنْهُ إِلَّا مَا يُدْخِلُ عَلَيَّ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ" .
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس آئی اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ابوسفیان بخیل آدمی ہے اور میرے پاس وہی خرچہ ہوتا ہے جو وہ مجھے دیتا ہے (جو ناکافی ہے)“۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”دستور کے موافق اتنا خرچہ اس کے مال سے لے لے جو تیرے اور تیرے بچوں کے لیے کافی ہو“۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع / حدیث: 1210
تخریج حدیث أخرجه البخارى البيوع، باب من أجرى امر الامصار على ما يتعارفون ...... الخ (2211)۔
حدیث نمبر: 1211
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي دِينَارٌ، قَالَ: "أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ" . قَالَ: عِنْدِي آخَرُ. قَالَ: "أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ" . قَالَ: عِنْدِي آخَرُ. قَالَ: "أَنْفِقْهُ عَلَى أَهْلِكَ" ، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ. قَالَ: "أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ" . قَالَ: عِنْدِي آخَرُ. قَالَ: "أَنْتَ أَعْلَمُ" . قَالَ سَعِيدٌ: ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ: يَقُولُ وَلَدُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ تَقُولُ زَوْجَتُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ طَلِّقْنِي، يَقُولُ خَادِمُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ بِعْنِي.
حافظ محمد فہد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے پاس ایک دینار ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو اپنے آپ پر خرچ کر“۔ اس نے کہا: ”میرے پاس ایک اور ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو اپنی اولاد پر خرچ کر“۔ اس نے کہا: ”میرے پاس ایک اور ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو اپنے گھر والوں پر خرچ کر“۔ اس نے کہا: ”میرے پاس ایک اور ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اپنے خادم پر خرچ کر“۔ اس نے کہا: ”میرے پاس ایک اور ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو بہتر جانتا ہے کہ اسے کہاں خرچ کرنا ہے“۔ سعید نے کہا کہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تو فرماتے: ”تیرا بیٹا کہتا ہے کہ مجھ پر خرچ کرو یا کسی اور کے سپرد کر دو تیری بیوی کہتی ہے مجھ پر خرچ کر یا مجھے طلاق دے دے اور تیرا خادم کہتا ہے کہ مجھ پر خرچ کر یا مجھے بیچ دو“۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع / حدیث: 1211
تخریج حدیث اخرجه ابوداؤد ، الزكاة، باب فى صلة الرحم (1691) والنسائى الزكاة، تفسير ذلك (2536) وصححه ابن خزيمة (2436) ۔ والحاكم 1 / 415 - وابن حبان ، وكلام ابي هريرة رواه البخاری، النفقات، باب وجوب النفقة على الاهل والعيال (5355)۔
حدیث نمبر: 1212
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الرَّجُلِ لَا [ ص: 82 ] يَجِدُ مَا يُنْفِقُ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ: يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا. قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: قُلْتُ سُنَّةٌ، فَقَالَ سَعِيدٌ: سُنَّةٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالَّذِي يُشْبِهُ قَوْلَ سَعِيدٍ: سُنَّةٌ، أَنْ تَكُونَ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ محمد فہد
ابوالزناد سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جس کے پاس بیوی پر خرچ کرنے کے لیے مال نہ ہو، تو انہوں نے کہا: ”دونوں کے درمیان علیحدگی کرا دی جائے گی“۔ ابوالزناد نے پوچھا: ”کیا یہ سنت ہے؟“ سعید نے کہا: ”ہاں، سنت ہے“۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سعید کی بات سنت ہے، سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع / حدیث: 1212
تخریج حدیث صحيح موقوفاً : اخرجه البيهقى 7/ 469 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4750)- والدار قطني : 3/ 297 - وعبد الرزاق (12356) وابن ابي شيبة (19006)۔
حدیث نمبر: 1213
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ فِي رِجَالٍ غَابُوا عَنْ نِسَائِهِمْ فَأَمَرُوهُمْ أَنْ يَأْخُذُوهُمْ بِأَنْ يُنْفِقُوا أَوْ يُطَلِّقُوا، فَإِنْ طَلَّقُوا بَعَثُوا بِنَفَقَةِ مَا حَبَسُوا. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ عِشْرَةِ النِّسَاءِ وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَهِيَ أَوَّلُ مَا فِيهِ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لشکروں کے امیروں کے نام خط لکھا ان آدمیوں کے متعلق جو (گھروں سے) غائب اپنی عورتوں کے پاس نہیں ہیں۔ اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کا اس بات پر مواخذہ کریں کہ وہ یا تو ان کو نفقہ دیں یا طلاق دے دیں۔ اور اگر وہ طلاق دیں تو جتنی دیر ان کو خرچہ نہیں دیا وہ بھی ساتھ دیں۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع / حدیث: 1213
تخریج حدیث صحيح موقوفاً: اخرجه البيهقي: 7/ 469 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4748) - وعبدالرزاق (12346) ۔ و ابن ابی شیبة (19013)۔