حدیث نمبر: 1199
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يَطَئُونَ وَلَائِدَهُمْ ثُمَّ يَعْزِلُونَ، لَا تَأْتِينِي وَلِيدَةٌ يَعْتَرِفُ سَيِّدُهَا أَنْ قَدْ أَلَمَّ بِهَا إِلَّا قَدْ أَلْحَقْتُ بِهِ وَلَدَهَا، فَاعْزِلُوا بَعْدُ أَوِ اتْرُكُوا.
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اپنی لونڈیوں سے وطی کرتے ہیں پھر وہ عزل کرتے ہیں۔ اب میرے پاس جو کوئی لونڈی آئی اور اس کے آقا نے اس سے صحبت کا اعتراف کیا تو میں اس (بچے) کو اس کے باپ سے ملا دوں گا، اس کے بعد تم عزل کرو یا نہ کرو (تمہیں اختیار ہے)“۔
حدیث نمبر: 1200
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ فِي إِرْسَالِ الْوَلَائِدِ يُوطَأْنَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے صفیہ بنت ابی عبید کے واسطہ سے عمر رضی اللہ عنہ سے سالم کی حدیث کی مثل ہی مروی ہے۔